اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں الدین سے مراد صرف دین کی اساسی تعلیمات ہیں کیوں کہ مختلف پیغمبروں کا مشترک دین یہی اساسی تعلیمات تھیں۔ جہاں تک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے وہ نص قرآنی (5:48) کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں۔ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو (42:13)۔ چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اساسی دینی تعلیمات ہی میں ہوسکتی ہے اس لئے یہاں صرف اساسی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔ تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا، یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔ تفسیر بذریعہ تدبر عام طور پر تفسیر کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں۔ تفسیر ماثور، اور تفسیر بالرائے۔ مگر تفسیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تفسیر بذریعہ تدبر کہا جا سکتا ہے۔ احادیث و آثار اور اقوال سلف کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنا، بلاشبہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ مگر قرآن کے عجائب کو مزید دریافت کرنے کے لیے ہر دور میں اس پر غور و تدبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جائز دائرے میں اس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوگا۔ یہاں قرآن سے ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف کو مصر کے ارضی خزائن پر حاکم مقرر کیا گیا۔ قحط کے زمانے میں ان کے خصوصی انتظام کے تحت لوگوں کو غلہ فراہم کیا جانے لگا۔ اسی زمانے میں غلہ لینے کے لیے ان کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ اور غلہ حاصل کر کے روانہ ہوئے۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے اونٹ پر لدے ہوئے غلہ سے ایک شاہی سامان برآمد کیا۔ اس کے بعد بن یامین کو چوری کے الزام میں ماخوذ کر کے حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader