اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں قرآنی آیتوں کی تفسیر عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو پہچان کر انہیں اپنے پاس روکنا چاہا مگر چونکہ وہ اپنی شخصیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ جب بھائیوں کو غلہ دیا جانے لگا تو ان کے سے ایک شاہی سامان (سقایہ) بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا پھر جب وہ لوگ اپنا غلہ لے کر جانے لگے تو نعوذ باللہ حضرت یوسف نے یہ کیا کہ قافلے کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی کروائی۔ پھر جب منصوبے کے مطابق، شاہی سقایہ بن یامین کے سامان سے نکل آیا تو انہوں نے بن یامین کو نعوذ باللہ چور قرار دے کر اپنے پاس روک لیا اور بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ یہ تفسیر واضح طور پر ایک پیغمبر کے اخلاق کو داغدار کرتی ہے۔ مگر جب قرآن کی متعلقہ آیتوں کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تفسیر کے علاوہ یہاں ایک اور زیادہ صحیح تفسیر موجود ہے۔ اس دوسری تفسیر میں حضرت یوسف مکمل طور پر بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیر سورۃ یوسف (رکورع 9 آیت 76-70) کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف نے جب ان کا سامان سفر درست کیا تو اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا سقایہ (پینے کا پیالہ) رکھ دیا پھر جب بھائیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا تو درباریوں کو کسی وجہ سے اپنا صواع (ناپنے کا پیمانہ) دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انہوں نے قافلے والوں کو پکار کر روکا اور کہا کہ ہم کو شبہ ہے کہ تم نے ہمارا (چاندی کا) صواع چرا لیا ہے۔ چنانچہ قافلہ کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ آخر کار حضرت یوسف کے بھائی بن یامین کے سامان سے وہ برآمد ہو گیا۔ پھر کنعان کے قانون کے مطابق بن یامین کو پکڑ کر حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یوسف کو اپنا وہ بھائی مل گیا جس کو وہ اپنے پاس روک لینا چاہتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader