اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ بڑھادیا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما صرف سلطانی ماڈل سے آشنا تھے، وہ دعوتی ماڈل کو یکسر فراموش کر چکے تھے۔ انہوں نے انتہائی بے دانشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ملت کو سلطانی ماڈل کے طریقے پر ڈال دیا، اور پھر ملت کو بھی تباہ کیا اور خود اپنے آپ کو بھی۔ دوگانہ غلطی جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حد تک غیر مفید بن چکا تھا۔ مگر دو سو سال کا ناکام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بے خبری کو توڑنے والا ثابت نہ ہوسکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کو مکمل طور پر کھونے کے باوجود اکیسویں صدی میں بھی وہ سلطانی دور کے اس فرسودہ ماڈل ہی کو بظاہر معیاری ماڈل سمجھ رہے ہیں۔ دور جدید میں ناکام سلطانی ماڈل کو دہرانے کی دو قسمیں ہیں۔ اس کی پہلی قسم ہے، حکمراں کے ذریعے سلطانی ماڈل کو اپنانا اور اس کی دوسری قسم ہے، غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے ذریعہ اس ماڈل پر عمل کرنا۔ سلطان ٹیپو پہلی قسم کی ایک مثال ہیں جنہوں نے حکمراں کی سطح پر اسے ناکام طور پر دہرایا۔ وہ قدیم سلطانی ماڈل سے باہر آکر معاملے کو سمجھ نہ سکے۔ 1799ء میں وہ انگریزوں کے خلاف ایک ناعاقبت اندیشانہ جنگ لڑ کر ہلاک ہو گئے۔ موجودہ زمانے میں عراق کے صدر صدام حسین کی زندگی بھی اسی سلطانی ماڈل کو اختیار کرنے کی ایک ناکام مثال ہے۔ اس کے بعد اس سلطانی ماڈل کے نام پر تجربہ کی دوسری قسم شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسری قسم وہ ہے جب کہ غیر حکومتی تنظیموں نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی شروع کردی۔ دوسری قسم کی اس لڑائی کا غالباً پہلا واقعہ وہ ہے جو 1831ء میں پیش آیا۔ جب کہ مولانا سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کا قافلہ مہاراجہ رنجیت سے لڑ کر بالا کوٹ میں تباہ ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader