Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد 1857ء میں اس نوعیت کا بڑا واقعہ وہ ہوا جب کہ علما ہند کی جماعت نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ اس کے بعد غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کے ناکام تجربہ کا ایک طویل سلسلہ قائم ہو گیا جو تادم تحریر جاری ہے۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان اور دوسرے بہت سے مقامات پر جہاد کے نام پر جو تباہ کن مسلح ٹکراؤ ہو رہا ہے وہ سب اسی دوسرے قسم کے تجربہ کی مثالیں ہیں۔ سلطانی ماڈل کے تجربہ کی دوسری قسم جو غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ گوریلا وار، پراکسی وار، وغیرہ کی صورت میں شروع ہوئی، وہ پہلی قسم سے بھی زیادہ مہلک تھی۔ اس میں بیک وقت دوغلطیاں شامل ہو گئیں۔ دعوتی دور میں سلطانی ماڈل کے طریقے کو اختیار کرنے کی خلاف زمانہ کوشش، دوسری اس سے زیادہ سنگین بات یہ کہ یہ طریقہ شرعی اعتبار سے سراسر غلط تھا۔ کیوں کہ ثابت شدہ طور پر مسلح جنگ صرف قائم شدہ حکومت کا حق ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف مسلح ٹکراؤ شروع کر دیں۔ پہلی قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ اگر صرف نادانی تھا تو دوسری قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ نادانی کے ساتھ شریعت سے انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہی وہ دوگونہ غلطی ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں کے مسلح جہاد کو سراسر ناکام بنا دیا۔ اس کا سبب کسی غیر قوم کی سازش نہیں جیسا کہ اکثر علما اور دانشور بے دلیل طور پر اعلان کرتے رہتے ہیں۔ سلطانی ماڈل ہر ایک اعتبار سے دعوتی ماڈل سے مختلف ہے۔ دعوتی ماڈل مکمل طور پر اسلام کے موافق مزاج بناتا ہے۔ اس کے برعکس، سلطانی ماڈل ایسا مزاج بناتا ہے جو ہر پہلو سے اسلامی تقاضوں کے بالکل خلاف ہو۔ اس معاملہ کی ایک مثال کشمیر اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا تصور مکمل طور پر سلطانی طرز فکر کا نتیجہ تھا۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں اگر دعوتی ماڈل ہوتا تو وہ ہرگز جغرافی تقسیم کی بات نہ کرتے۔ ایسی صورت میں وہ اس کو خدا کی ایک رحمت سمجھتے کہ متحد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page