Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کی صورت میں ان کو گویا ایک پورا بر اعظم میدانِ کار کے طور پر مل رہا ہے۔ ان کے ذہن میں ماضی کا سلطانی ماڈل بسا ہوا تھا۔ سلطانی ماڈل میں سارا فوکس صرف سیاسی اقتدار پر ہوتا ہے، مواقع دعوت یا مواقع کار کی سلطانی ماڈل میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس بے شعوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تقسیم کی تحریک چلا کر سارے برصغیر ہند میں نفرت (بالفاظ دیگر، مخالف دعوت) کا جنگل اگا دیا۔ سارے دعوتی امکانات مسدود ہو کر رہ گئے۔ اس غیر اسلامی اور غیر حکیمانہ سیاست کا دوسرا دور 1947ء سے شروع ہوتا ہے۔ پندرہ اگست 1947 کو جب یہ علاقہ انگریزی اقتدار سے آزاد ہوا تو یہاں دو بڑے ریاستی مسئلے تھے۔ ایک حیدر آباد کا اور دوسرا کشمیر کا۔ ریاست حیدر آباد میں ہندو اکثریت تھی مگر حکمراں مسلمان تھا۔ اس کے برعکس ریاست کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمراں ہندو تھا۔ اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنیارسی الحاق پاکستان سے کر لیا۔ اس کے برعکس، کشمیر کے راجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی ۔ اس نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدر آباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اور ہم کشمیر سے دعویٰ واپس لے لیں۔ اس طرح یہ نزاع ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستے پر اپنا سفر شروع کر دیں گے۔ ہندوستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی ۔ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (8:61)۔ یعنی، اگر فریقِ ثانی صلح کی پیش کش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کرلو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن حد تک متاثر ہونے کی وجہ سے حاکمانہ نفسیات کا شکار تھے، وہ اس قیمتی پیشکش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے بعد جو بے پناہ تباہی آئی وہ ہر ایک کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page