اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ ناقابل فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔ اس معاملے کو حسب ذیل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے: 1. Looking Back by Marchand Mahajan. 2. Witness to an Era by Frank Morris. 3. Emergence of Pakistan by Chaudhary Mohali. 4. The Nation that Lost its Soul by Sardar Shaukat Hayat khan. پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو میز کی گفت و شنید کے ذریعے حل کر سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے شدید تر غلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کو استعمال کر کے اس مسئلہ کے حل کا خواب دیکھنے لگے۔ پہلے انہوں نے براہ راست مسلح اقدام کے ذریعہ ہندوستان سے فوجی ٹکراؤ کیا۔ مگر اس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ ان کی سلطانی نفسیات اب بھی حقیقت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر میں ہندوستان کے خلاف وہ خفیہ جنگ شروع کر دی جس کو پراکسی وار(proxy war) کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ پراکسی وار نہ صرف پاکستان اور کشمیر دونوں کی تباہی کا ذریعہ تھی بلکہ وہ اسلامی شریعت کے اعتبار سے یقینی طور پر نا جائز بھی تھی۔ کیوں کہ اسلام میں کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اعلان ضروری ہے: فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (8:58)۔ ہندوستان کے خلاف اس غیر اسلامی اور غیر دانش مندانہ جنگ کو درست ٹھہرانے کے لیے پاکستان نے دوسری شدید تر غلطیاں کیں۔ مثلاً پاکستان نے اپنی خارجہ سیاست اور اپنے میڈیا کو مکمل طور پر ہندوستان کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے کا کارخانہ بنا دیا۔ کشمیر کی گوریلا وار یا پراکسی وار میں پوری طرح شامل ہونے کے باوجود وہ مسلسل طور پر اس قول زور کا سہارا لیتا رہا کہ اس جنگجوی سے ہمارا کوئی عملی تعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader