Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی جنگجوئی پوری طرح پاکستان کی مدد سے جاری ہے۔ اسی طرح ظاہری طور پر اپنے آپ کو پرامن قوم بتانے کے لیے پاکستانی لیڈروں نے بار بار امن کے معاہدہ پر دستخط کیے ــــ معاہدہ تاشقند (1965)، معاہدہ شملہ (1976)، معاہدہ لاہور (1998)۔ اس قسم کے تمام معاہدے اور اعلانات بھی پاکستانی لیڈروں کے غیر دعوتی ذہن کا شکار ہوتے رہے۔ کاغذ کے اوپر انہوں نے بار بار یہ لکھا کہ کشمیر کے مسئلہ کو جنگ کے بجائے پر امن گفت و شنید کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ مگر یہ معاہدے غالباً دنیا کو دکھانے کے لیے تھے ۔ کیوں کہ انہوں نے کسی بھی معاہدہ کے بعد اپنی خفیہ جنگی کارروائی کو بند نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کے مطابق، معاہدہ کی لفظی اور معنوی پابندی اہل اسلام کے لیے ضروری ہے: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولًا (17:34) ــ پاکستان کے لیڈر اگر اپنے سلطانی ماڈل سے باہر آئیں اور دعوتی ماڈل کو بنیاد بنا کر سوچیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے لیے قرآن میں واضح رہنمائی موجود ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بہر حال ہر فرد اور قوم کو مصیبت کا تجربہ ہوتا ہے ۔ یہاں انسان کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ــــ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (57:23) ــ یعنی، تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ رہنمائی ہے کہ کشمیر کو وہ اسی طرح اختیاراتور پر کھوئے ہوئے خانے میں ڈال دیں، جس طرح وہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو مجبورانہ طور پر کھوئے ہوئے خانے میں ڈال چکے ہیں۔ کشمیر میں اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کو ختم کردیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر کے معاملے میں صورت موجودہ (status quo) کو مان کر ہندستان سے معتدل تعلقات قائم کرلیں اور منفی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page