اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
ربانی تعقل قرآن میں بنیادی طور پر دو قسم کی تعلیمات ہیں۔ ایک وہ جن کو احکام کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے وہ جو تفکر اور تدبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اول الذکر کی حیثیت اگر عملی ہے تو ثانی الذکر کی حیثیت فکری۔ قرآن میں دونوں ہی قسم کی تعلیمات اجمالی انداز میں آئی ہیں۔ یہ کام علماِ اسلام کا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی رہنمائی میں اس اجمال کی تفصیل کریں۔ جہاں تک احکام کا تعلق ہے، ان کی تفصیل اور تدوین فقہ کی صورت میں کی گئی ہے۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر ایک کامیاب کوشش کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تفکر اور تدبر والے حصہ کا تعلق ہے، ان کے سلسلے میں بھی پچھلے ہزار سال کے دوران مقدار کے اعتبار سے کافی کام ہوا ہے۔ مگر وہ بڑی حد تک غیر اطمینان بخش ہے۔ یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس پہلو سے جو لٹریچر تیار ہوا ہے وہ زمانی افکار سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ قرآن کی حقیقی روح اس میں اوجھل ہوگئی ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والوں کا پہلا گروہ وہ ہے جن کو متکلمین کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ ابتداء عباسی خلافت کے زمانے میں پیدا ہوا۔ اس گروہ کے مشہور ناموں میں سے الفارابی (وفات 950ء)، ابن رشد (وفات 1198ء) اور الرازی (وفات 1210ء)، وغیرہ ہیں۔ متکلمین کے اس گروہ نے قرآنی تفکر اور تدبر کے اظہار کے لیے جس فکری ماڈل کو اپنایا، وہ یونانی فلسفے کا ماڈل تھا۔ یہ فلسفہ قیاسی منطق کے اصول پر قائم تھا۔ اس لیے وہ بذات خود ایک غیر حقیقی ماڈل تھا۔ اس ماڈل پر قرآن کے فکری اجمال کی جو تفصیل کی گئی وہ بڑی حد تک مَنْ تَمَنْطَقَ تَزَنْدَقَ ( جو شخص منطق میں الجھے، وہ دین سے بھٹک جاتا ہے ) کی مصداق تھی۔ اس پورے مجموعے پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے: فلسفی سر حقیقت نتوانست کشود گشت راز دگر آں راز که افشامی کرد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader