اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی عین یہی ہے۔ کشمیر کے سوال پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی بلا اعلان جنگ (undeclared war) نے پاکستان کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ اپنی تباہی کے آخری کنارے پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا اس کو سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک (unsafest country) کے طور پر دیکھتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری (investment) کے لیے تیار نہیں۔ پاکستانی عوام کی بے چینی (unrest) نے ملک میں خانہ جنگی (civil war) جیسی صورت حال پیدا کردی ہے۔ ملک کے مذہبی اور تعلیمی اور ثقافتی ادارے تخریبی سرگرمیوں کے مرکز بن گئے ہیں۔ ان خرابیوں کا سب سے زیادہ اندوہناک انجام وہ ہے جس کو برین ڈرین (brain drain) کہا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس لیے کسی ملک کی ترقی کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہاں کے لوگوں کو عمل کے کھلے مواقع دکھائی دیتے ہوں۔ مثلاً وہاں امن ہو، بہترین انفراسٹرکچر (infrastructure) ہو۔ آدمی کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملتا ہوا نظر آئے۔ اگر کسی ملک میں یہ مواقع پوری طرح موجود ہوں تو اس ملک میں ہر آدمی اپنے آپ سرگرم ہو جائے گا اور ملک خود بخود ترقی کرنے لگے گا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان میں ”پہلے صورت موجودہ (statuesque) کو بدلو“ کے نظریے کے نتیجے میں مسلسل طور پر ہنگامی صورت حال باقی ہے۔ وہاں عملی طور پر افراد کے لیے حسب حوصلہ کام کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ بیشتر حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے ۔ امریکہ کے سفروں کے دوران میں نے امریکہ میں مقیم بہت سے پاکستانیوں سے پوچھا کہ آپ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے۔ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھا کہ امریکہ میں کام کے مواقع ہیں جبکہ پاکستان میں کام کے مواقع نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader