Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر کے بارے میں پاکستان کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی پاکستان کے ترقیاتی سیلاب کے لیے ٹریپ ڈور(trap door) بنی ہوئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان موجودہ زمانے میں ترقیاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔ پاکستان کو اس پچھڑے پن سے نکالنے کی صرف ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان مسائل سے ٹکرانے کی بجائے مواقع کو استعمال (avail) کرنے کی پالیسی اختیار کرے ۔ موجودہ حالات میں اسکی عملی صورت یہ ہے کہ پاکستانی لیڈر کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کوعلی حالہ ماننے پر راضی ہو جائیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر میں قبضہ کی لائن (LoC) کو ضروری ایڈ جسٹمنٹ کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد قرار دیا جائے۔ اس معاملہ میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو جغرافی اور سیاسی سٹیٹس کو (political status quo) بن گیا ہے اس کو مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف ایک غیر جمہوری حکمران ہی کر سکتا ہے۔ کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔ میرے نزدیک صدر پرویز مشرف کے لیے یہی تاریخی کام مقدر ہے۔ اس معاملہ میں جولوگ صدر مشرف کے حق اقتدار پر سوال اٹھا رہے ہیں ان کا جواب سابق فوجی صدر محمد ضیاء الحق کی مثال میں موجود ہے۔ اس سے پہلے جنرل محمد ضیاء الحق نے یہی کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر فوجی قبضہ کیا۔ اور پھر خود ساختہ کارروائی کے ذریعہ اپنے صدر مملکت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پاکستان کے اسلام پسندوں سے لے کر امریکہ کے محکمہ خارجہ تک ہر ایک نے اس کو قبول کر لیا اور قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت اس کو جائز قرار دیا۔ یہ نظیر کافی ہے کہ صدر پرویز مشرف کو بھی اسی دلیل کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ یہ ایک منافقانہ کردار ہے کہ جہاں ذاتی انٹرسٹ دکھائی دے وہاں آدمی پریکٹیکل بن جائے اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وہ آئیڈ یلزم کی بات کرنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page