اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سنبھالنا اور پھر 20 جون 2001 کو ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف لینا بظاہر ایک غیر آئینی واقعہ ہے مگر میرے نزدیک وہ ایک بالکل بروقت واقعہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو جو جرات مندانۂ فیصلہ لینا ہے وہ صدر پرویز مشرف جیسا فوجی حکمران ہی لے سکتا ہے۔ انتخابات کے ذریعہ بننے والے کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن ہی نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان اپنی جذباتی پالیسی کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے۔ وہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان سے سمجھوتہ کرلے تا کہ ملک میں امن کی فضا پیدا ہو اور ملکی ذرائع کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑا جاسکے۔ پچھلے 55 سال سے پاکستان کی سیاست ایک ہی سوال پر مرتکز رہی ہے۔ اور وہ ہے کشمیر میں قائم شدہ سیاسی حالت (political status quo) کو بدلنا۔ اب آخری طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ پالیسی ایک تباہ کن پالیسی ہے۔ وہ سرے سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہی نہیں، نہ ماضی اور نہ حال میں اور نہ ہی مستقبل میں۔ مذکورہ قسم کا انقلابی فیصلہ لینا یقینی طور پر ایک مشکل کام ہے۔ لیکن اگر ایک بار ہمت کرکے پاکستان ایسا فیصلہ لےلے تو اس کے معجزاتی نتیجے برآمد ہونگے۔ انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ کی حالت ختم ہوکر امن قائم ہو جائے گا۔ پاکستانی قوم کی منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جائے گی۔ باہمی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے۔ تعلیم اور ثقافت اور سیاحت کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان لین دین شروع ہو جائے گا۔ لٹریچر کی دوطرفہ آمد و رفت کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی اور برادرانہ ماحول قائم ہو جائے گا۔ انڈیا اور پاکستان کی زبان اور کلچر بڑی حد تک ایک ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لیے دور کے پڑوسی (distant neighbors)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader