Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

بیک زبان کہا: ھٰذَا الْأَمِیْنُ رَضِیْنَا ھٰذَا مُحَمَّدُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 214)۔ یعنی، یہ محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آؤ۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلا یا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملہ کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے ۔ اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لیے اکثر وقار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔ آغاز کار پیغمبر اسلام ﷺ کو جب مکہ میں نبوت ملی تو آپ نے اپنے عمل کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ اے لوگو، کہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے ؂ یَا أَيُّهَا النَّاسُ قُوْلُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16603)۔ یعنی تم لوگ شرک کو چھوڑ دو اور ایک خدا کی پرستش کا طریقہ اختیار کرو، تم فلاح پاؤ گے۔ اس وقت کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے اس کو توحید کے مرکز کے طور پر بنایا جاتا۔ مگر اس وقت وہ عملاً شرک وبت پرستی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو مختلف راستے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page