Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے ۔ ایک یہ کہ کعبہ سے بتوں کو نکال کر وہاں دوبارہ توحید کا ماحول قائم کریں اور اس کو مرکز بنا کر اپنی موحدانہ تحریک چلائیں۔ ایک صورت قولی دعوت سے آغاز کرنے کی تھی۔ اور دوسری صورت عملی اقدام سے آغاز کرنے کی۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے، آپ نے عملی اقدام سے مکمل طور پر پر ہیز کیا، اور صرف قولی دعوت کے نہج پر مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن جاری فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت یا اسلامی تحریک کا صحیح پیغمبرانہ طریقہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ پہلے پر امن فکری مہم کے ذریعہ لوگوں کی سوچ اور کردار میں تبدیلی لائی جائے ۔ یہ ابتدائی کام جب قابلِ لحاظ حد تک انجام پا جائے، اس کے بعد حسبِ حالات عملی اقدام کا آغاز کیا جائے۔ توہین کو برداشت کرنا مشہور سیرت نگار ابنِ اسحق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام مذمّم رکھا تھا۔ پھر وہ آپ کا سب وشتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذارسانی سے بچا لیا۔ وہ سب وشتم کرتے ہیں اور ایک مذمّم شخص کی ہجو کرتے ہیں اور میں محمد ہوں : وَكَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تُسَمِّي رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مُذَمَّمًا، يَسُبُّونَهُ، وَكَانَ يَقُولُ : أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدُ (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 6)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا اصل نام محمد تھا جس کا مطلب ہے تعریف کیا ہوا۔ مکی دور میں جب قریش کو آپ کے ساتھ عناد پیدا ہوا تو انھیں پسند نہیں آیا کہ وہ آپ کو محمد (تعریف کیا ہوا) جیسے نام سے پکاریں۔ انھوں نے اپنے جذبہ عناد کی تسکین کے لیے بطورِ خود آپ کا نام مذمّم رکھ دیا جس کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا۔ قریش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page