Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی جہاد کیا ہے جہاد کے لفظی معنی ہیں کوشش کرنا ۔ تاہم اس کے مفہوم میں مبالغہ ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہے بہت کوشش کرنا ، کسی مقصد کے حصول کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کر دینا۔ لسان العرب نے جہاد کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی نے کوشش کی اور اپنی کوشش میں اس نے مبالغہ کیا ( جَهَدَ الرجل فی کذا آی جَدَّ فیہ ومبالغ ) المفردات امام راغب میں ہے کہ انھوں نے اتنی کوشش کی جو آخری حد تک ان کے بس میں تھی ( ان يأتوا به على ابلغ ما في وسعهم ) مومن ایمان و اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے جو کچھ کرتا ہے وہ سب کا سب جہاد ہے۔ اس اعتبار سے شریعت میں جہاد کی تین قسمیں قرار پاتی ہیں —— مجاہدہ نفس، مجاہدہ دعوت ، مجاہدۂ اعداد ۔ مجاہدہ نفس تمام ترا یک شخصی جہاد ہے ۔ یہ آدمی کی اپنی ذات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی ترغیبات سے لڑے۔ وہ نفسانی محرکات کا مقابلہ کرتے ہوئے دین خداوندی پر قائم رہے۔ اسی جہاد کی بابت حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ المجاهد من جاهد نفسه فی طاعة الله ( مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے ) دوسری حدیث ہے : جاهدوا اهواءكم كما تجاهدون اعداءکم ( تم لوگ اپنی خواہشوں سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں سے جہاد کرتے ہو) جہاد کی دوسری قسم مجاہدۂ دعوت ہے۔ یعنی خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کرنا۔ قرآن میں ہے : وجاهد هم به جهاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) اس آیت میں بہ کی تفسیر ابن عباس نے بالقرآن سے کی ہے اور ابن زید نے بالا سلام سے (الجامع لاحکام القرآن ۱۳ / ۵۸ ) یعنی قرآن اور اسلام کی صورت میں جو دین تمھیں دیا گیا ہے ، اس کے ذریعہ سے جہاد کبیر کرو۔ لوگ تعلیمات حق کے ابطال کے لئے اپنی کوشش صرف کر رہے ہیں، تم ان کے مقابلہ میں تعلیمات حق کے اثبات کے لئے اپنی ساری کوشش لگا دو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page