اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
(التفسیر المظہری ۷/ ۲۲) جہاد کی تیسری قسم مجاہدہ اعداء ہے۔ یعنی اسلام اور اہل اسلام کے دشمنوں سے جنگ کرنا اور انھیں مجبور کرنا کہ وہ اپنی دشمنانہ روش سے باز آ جائیں۔ اس جہاد کا دوسرا نام قتال فی سبیل اللہ ہے۔ پیش نظر مقالہ کا موضوع اصلاً جہاد کی یہی تیسری قسم ہے۔ اس لئے یہاں اس پر کسی قدر تفصیل کے ساتھ بحث کی جائے گی۔ اصلاح خویش ، انذار قرآن کا مقصد نزول ، قرآن کے بیان کے مطابق دو ہے ۔ ایک یہ کہ مومن اس سے نصیحت لے کر اپنی اصلاح کریں ۔ دوسرے یہ کہ غیر مومنوں کو وہ آنے والے یومِ حساب سے آگاہ کر دے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : كتاب انزل اليك فلا يكن في یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ صدرك حرج منه لتنذر به پس تمہارا دل اس کے باعث تنگ نہ ہو ، تاکہ وذكرى للمؤمنين (الاعراف (۴) تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈراؤ ، اور وہ ایمان والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ ذاتی اعتبار سے ایک مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ اس کے اندر ہدایت طلبی اور نصیحت پذیری کا مزاج ہو۔ وہ کتاب الہی کی آیات سے سبق لے۔ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدا کی نشانیوں کو اپنے لئے روحانی غذا بنائے (آل عمران ۱۹۱) اور اس طرح وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ کو نوا ربانیین کا مصداق بن جائے (آل عمران (۷۹) اہل اسلام کے لئے دوسرا نشانہ وہ ہے جو خارجی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ خارجی دنیا کے لئے اہل اسلام کو جو نشانہ دیا گیا ہے وہ انذار و تبشیر یا دعوت الی اللہ ہے۔ یہی واحد خارجی عمل ہے جس میں اصلاً مسلمانوں کو مشغول ہونا ہے۔ خارجی قو میں ہمارے لئے قتال کا موضوع نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ہمارے لئے دعوت و نصیحت کا موضوع ہیں۔ ان کے سلسلہ میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں اور مسلسل انھیں اس کی طرف بلاتے رہیں۔ مسلمان کے خارجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader