اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل کی بنیاد ، ایک لفظ میں، دعوتی عمل (dawah activism) ہے نہ کہ جنگ و قتال کا عمل۔ اسلام میں اصل ابتدائی عمل دعوت ہے۔ اسی سے ان کے لئے ہر قسم کی خارجی کامیابیوں کے در و دروازے کھلتے ہیں۔ اہل ایمان کو اپنی ذاتی اصلاح کے بعد دوسرا جو عمل کرنا ہے وہ دعوت اور صرف دعوت ہے۔ اہل ایمان کا خارجی عمل بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ اہل ایمان اور دوسری قوموں کے درمیان حقیقۃ داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ حریف اور رقیب کا تعلق۔ تاہم موجودہ دنیا میں انسان آزاد ہے۔ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے کبھی تشدد پر اتر آتا ہے، وہ دوسرے کے اوپر جارحانہ حملے کرتا ہے۔ اس طرح بعض اوقات دوسرے سے مقابلہ اور ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق ہے کہ دعوت اسلام کا اصولی تقاضا ہے اور جنگ اسلام کا صرف وقتی تقاضا۔ اسلام میں بلاشبہ قتال کے مواقع بھی پیش آئے ہیں اور آئندہ بھی وہ پیش آسکتے ہیں۔ مگر قتال اسلام کا اصل کام یا اس کا اصل نشانہ نہیں۔ اسلام میں دعوت اس کا اصل جزو ہے اور قتال اس کا صرف اضافی جزء ۔ یعنی دعوت تو ہر مقام پر اور ہر حال میں ابدی طور پر جاری رہے گی۔ مگر قتال صرف اس وقت کیا جائے گا جب کہ رہ اتفاقی حالات پیش آجائیں جن میں شریعت نے اپنے ماننے والوں کو قتال کی اجازت دی ہے۔ دعوت ہر قسم کے حالات کے لئے ہے اور قتال صرف مخصوص حالات کے لئے۔ (دعوت کے موضوع پر مزید تفصیل کے لئے : دین کامل) جہاد برائے دفاع رسول اور اصحاب رسول کو اپنی زندگی میں جو غزوات پیش آئے ، وہ اصلا دفاعی تھے۔ اس کا ثبوت قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ قرآن میں اہل ایمان کو مشرکین سے قتال کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے : الا تقاتلون قوما نكثوا ايمانهم وهموا کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے عہد باخراج الرسول وهم بدؤکم کو توڑا اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا قصد کیا اول مرۃ ۔ اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے پہل کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader