Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں قرآن نے جنگ کا آغاز کرنے کی ذمہ داری واضح طور پر اسلام کے مخالفوں پر ڈالی ہے۔ اور جب خود قرآن کے مطابق، مخالفین کا گروہ بادتٰی (ابتدا کرنے والا) ہو تو اس کے بعد بلا شک یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جنگیں پیش آئیں ان میں مخالفین کی حیثیت لڑائی کا آغاز کرنے والے کی تھی اور آپ کی حیثیت دفاع کرنے والے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مہاجر صحابہ کا وطن مکہ تھا۔ آپ نے مکہ میں پرامن طور پر توحید کی دعوت شروع کی۔ اہل مکہ کے ساتھ آپ نے کسی بھی قسم کی کوئی عملی نزاع کھڑی نہیں کی۔ اس کے با وجود وہ آپ کے اور آپ کے اصحاب کے دشمن ہو گئے۔ انھوں نے جارحانہ انداز اختیار کر کے ایسے سخت حالات پیدا کئے کہ آپ کے اصحاب اپنا وطن چھوڑ کر باہر جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد مکہ کے منکرین خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے در پے ہو گئے۔ چنانچہ اپنے قومی طریقہ کے مطابق وہ دار الندوہ میں جمع ہوئے تاکہ کوئی اجتماعی فیصلہ کر سکیں ۔ مشورہ میں نے کہا کہ محمد کو پکڑ کر ایک کوٹھری میں بند کر دو یہاں تک کہ اسی میں ان کی موت آجائے کسی نے کہا کہ ان کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔ کسی نے کہا کہ مل کر انھیں قتل کر دو تا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے (سیرۃ ابن ہشام ۲/ ۹۳ - ۹۵) مکہ کے اسی واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اور جب انکار کرنے والے تمہاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا ۔ اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے (الانفال (۳۰) دار الندوہ کے مشورہ کے مطابق مشرکین مکہ نے یہ کیا کہ تلواریں لے کر مکہ میں آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ اپنے قبائلی رواج کے مطابق، وہ گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر انھوں نے اس بات کا قطعی فیصلہ کر لیا تھا کہ صبح کو جب آپ حسب معمول گھر کے باہر نکلیں تو سب مل کر دفعتاً آپ پر تلواروں کا حملہ کریں اور آپ کو قتل کر ڈالیں ۔ مگر اللہ اپنے پیغمبر کا محافظ تھا۔ اس نے محاصرہ کرنے والوں پر نیند طاری کر دی، اور آپ رات ہی کو مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہو گئے اور بحفاظت وہاں پہنچ گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page