اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
روایات میں آتا ہے کہ اصحابِ رسول جب ہجرت کر کے مدینہ آگئے تب بھی وہ ہر وقت اپنے ساتھ تلوار رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ رات کے وقت بھی وہ تلوار لے کر سوتے تھے۔ کیوں کہ مستقل اندیشہ تھا کہ اہل مکہ کسی بھی وقت اقدام کر کے ان کے اور حملہ کر دیں گے۔ ہجرت کے بعد اہل مکہ کے جارحانہ عزائم ایک مسلمہ حقیقت بن چکے تھے۔ مشرکین عرب کا یہ رویہ قرآن کے نزدیک ، مکمل طور پر جارحیت کے ہم معنی تھا۔ اب رسول اور اصحاب رسول کو یہ حق ہو گیا کہ وہ دفاع کے اصول کے تحت مشرکین عرب سے جنگ کر سکیں۔ ہجرت کے بعد بدر کے موقع پر اس کا وقت آگیا۔ اس طرح بدر اور اس کے بعد کی تمام چھوٹی بڑی لڑائیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئیں وہ سب دفاعی جنگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان تمام جنگوں میں اہل شرک کی حیثیت جارح کی تھی اور اہل اسلام کی حیثیت مدافع کی۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فریق ثانی کی طرف سے جب جنگ کا آغاز کر دیا جائے تو اس کے بعد دفاع اور جارحیت کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ ایک بار جارحیت کا واقعہ پیش آنے کے بعد فریق ثانی کو جائز طور پر یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ اپنے جارح دشمن کو زیر کرنے کے لئے جو بھی جوابی کارروائی مناسب سمجھے اس کو اختیار کرے۔ بین اقوامی رواج کے مطابق ، یہ ایک مانا ہوا اصول ہے۔ اس کے جواز اور معقولیت سے کسی کو اختلاف نہیں۔ اس مسئلہ اصول کی روشنی میں ، بدر کی جنگ بہ حال میں دفاعی جنگ قرار پاتی ہے، خواہ یہ کہا جائے کہ مسلمانوں نے اس موقع پر آگے بڑھ کر مشرکین کے اور حملہ کیا یا یہ کہا جائے کہ مشرکین کا لشکر پہلے حملہ آور ہوا اور اہل اسلام اس سے مقابلہ کے لئے مدینہ سے نکل کر بدر کے مقام پر پہنچے۔ اپنے وطن سے جابرانہ طور پر ہلا وطن کئے جانے کے بعد ان کے لئے دونوں ہی جنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دفاعی جنگ کے حکم میں شمار کی جائے گی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر امن طور پر مدینہ میں رہنے لگے۔ مگر اہل مکہ نے آپ کو آپ کے حال پر چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ جمادی الاولیٰ ۵ھ میں یہ واقعہ ہوا کہ اہل مکہ کا ایک مسلح دستہ کرز بن جابر الفہری کی قیادت میں آیا۔ اس نے مدینہ کے قریب کی ایک چراگاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader