اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
پر رات کو حملہ کیا اور مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گیا۔ اسلام کی تاریخ میں اس کو غزوہ بدر الاولی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسی سال رمضان سنہ میں وہ غزوہ پیش آیا جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ بدر الثانیہ کہا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اہل مکہ کی طرف سے جارحیت کا آغاز بدر اول میں ہو چکا تھا۔ بدر ثانی اس کے بعد اس کے جواب میں دفاعی کاروائی کے طور پر پیش آیا۔ مدافعانہ جنگ کو ہمیشہ ہر فرد اور ہر قوم کا جائز حق سمجھا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ کا آرٹیکل ۵۱ ذاتی دفاع (self-defense) سے متعلق ہے۔ اس پر تمام دنیا کی قوموں نے دستخط کئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک ریاست اپنی ذات میں اس کا حق رکھتی ہے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنا دفاع کرے جب کہ اس کے خلاف مسلح حملہ کر دیا گیا ہو : a state has the inherent right of individual or collective self-defense if an armed attack occurs against it. (19/540). انٹرنیشنل قانون کے ماہرین نے اس آرٹیکل کی تشریح میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے مسلمہ رواج کے مطابق ، جارحیت کو واقعی مسلح حملہ (actual armed attack) تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستیں دفاع کا وہ مزید وسیع حق بھی رکھتی ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے چارٹر سے پہلے انہیں حاصل تھا۔ اس میں کسی حملہ کے ناگزیر ہو جانے کی صورت میں اس کو روکنے کا اقدام کرنا بھی شامل ہے: In addition, states also retain the broader right of self-defense that international law gave them before the Charter came into effect, including preventive action against an imminent attack. (19/540). مسئلہ بین الاقوامی رواج کے مطابق ، ہر فرد اور ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ بوقت جارحیت اپنا دفاع کرے۔ قدیم زمانہ میں بھی اس کو تسلیم کیا جاتا تھا اور موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی صورت میں وہ باضابطہ طور پر تسلیم شدہ حق کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں اہل اسلام کو دفاعی جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں ہم صرف دو آیتیں نقل کرتے ہیں۔ اختلاف روایت کے ساتھ یہ سب سے پہلی آیتیں ہیں جو قتال کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader