Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

بارہ میں قرآن میں اتریں : وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے ولا تعتدوا (البقرہ ۱۹۰) لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا (لڑنے کی اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے (الحج ۳۹) لڑائی کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا۔ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ان میں اہل ایمان کو جس جنگ کا حکم دیا گیا ہے وہ واضح طور پر مدافغانہ جنگ ہے۔ اس میں بدء کا فعل (التوبہ ۱۳) فریق ثانی کی طرف سے ہو چکا ہے۔ اس کی ظالمانہ کارروائی پہلے ہی وقوع میں آچکی ہے۔ اس کا جارح ہونا مسلم طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔ اس کے بعد اہل اسلام کو ہدایت دی جارہی ہے کہ ان جارح لوگوں کے خلاف مدافغانہ جنگ کرو۔ اسلام میں پہلی باقاعدہ جنگ بدر کی صورت میں پیش آئی ۔ اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر غزوہ احد اور غزوہ حنین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ غزوہ احد شوال ۳ھ میں پیش آیا۔ بدر کے موقع پر اگرچہ قریش کو فوجی شکست ہوئی تھی۔ مگر ان کا کاروان تجارت بچ کر کہ واپس آگیا تھا۔ اس تجارت سے حاصل شدہ ساری رقم دار الندوہ میں پوری طرح محفوظ تھی۔ اب لوگوں کے اندر بدر کا انتقام لینے کا جذبہ ابھرا۔ سرداران قریش نے مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ جو تجارتی رقم محفوظ ہے اس کا اصل سرمایہ تو شرکا کے درمیان ان کے حصہ کے بقدر تقسیم کر دیا جائے۔ اور منافع کی رقم سب کی سب ایک نئی جنگ کی تیاری میں استعمال کی جائے۔ یہ زر منافع تقریباً پچاس ہزار دینار تھا۔ وہ سب کا سب مجوزہ فوجی مہم کے لئے خاص کر دیا گیا۔ یہی واقعہ ہے جس کی طرف سورہ الانفال کی آیت ۳۶ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ قریش نے غیر معمولی تیاری کی۔ حتی کہ انھوں نے مکہ کی ۱۵ عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لیا تا کہ وہ رجز یہ اشعار پڑھیں اور ہمت ہارنے والوں کو غیرت دلائیں۔ مکہ اور دیگر قبائل کے تین ہزار مسلح آدمی مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستقل طور پر حالات کی خبر لیتے رہتے تھے۔ آپ کے مخبروں نے بتا دیا کہ قریش کا لشکر چلتے ہوئے مدینہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page