Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

قریب پہنچ گیا ہے۔ پوری معلومات حاصل کر لینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے مشورہ پوچھا۔ کچھ لوگوں کی رائے ہوئی کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں اور جب قریش کا لشکر مدینہ میں داخل ہو جائے اس وقت اس سے مقابلہ کریں۔ دوسرے طبقہ نے اس کو کمتر سمجھا اور یہ رائے دی کہ مدینہ سے باہر نکل کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کی رعایت کی اور مدینہ سے نکلنے کا حکم دے دیا۔ روایات کے مطابق، ۱ شوال کو آپ ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کے لئے نکلے۔ مگر راستہ میں عبداللہ ابن ابی اور اس کے ساتھی اختلاف کر کے لشکر سے الگ ہو گئے اور مدینہ واپس آگئے۔ ان کی تعداد تقریباً تین سو تھی۔ مدینہ کے باہر احد پہاڑ کے قریب دونوں فوجوں میں مقابلہ ہوا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ احد کی جنگ میں واضح طور پر قریش نے حملہ کیا تھا اور اہل اسلام کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنا دفاع کریں۔ مکہ سے مدینہ کا فاصلہ تقریباً ۳۰۰ میل ہے۔ یہ جنگ مدینہ کی سرحد پر ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ گھر سے ۳۰۰ میل کا فاصلہ طے کر کے مسلمانوں کے علاقہ میں آئے۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اس جنگ میں اہل شرک کی حیثیت مہاجمہ کی تھی اور اہل اسلام کی حیثیت مدافع کی۔ دفاعی جنگ کی دوسری واضح مثال وہ ہے جس کو غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ یہ غزوہ شوال ۸ھ میں پیش آیا۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے سفر کا ارادہ فرمایا۔ درمیان میں قبیلہ ہوازن کی بستیاں تھیں۔ آپ کا کوئی ارادہ قبیلہ ہوازن سے تعرض کرنے کا نہ تھا۔ مگر اس قبیلہ کا سردار مالک بن عوف فتح مکہ کی خبر سن کر آپ کا دشمن ہو گیا۔ اس نے قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف میں جوشیلے تقریریں کر کے انھیں آپ کے خلاف بھڑکا دیا۔ یہ لوگ تقریباً بیس ہزار کی تعداد میں آپ کے خلاف جمع ہو گئے۔ مالک بن عوف ان کو لے کر مقام اوطاس پہنچا۔ یہاں اس نے یہ طے کیا کہ ہم لوگ پہاڑوں اور جھاڑیوں میں چھپ جائیں۔ اور مسلمانوں کی جمعیت جب طائف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page