Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

تو یکبارگی ان پر حملہ کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے مخبروں کے ذریعہ مالک بن عوف کے منصوبہ کی خبر ہو گئی تھی۔ آپ نے احتیاطی طور پر مزید تیاری کا اہتمام کیا اور مکہ سے ۱۲ ہزار آدمیوں کے ساتھ نکل کر روانہ ہوئے۔ اہلِ اسلام کی یہ جمعیت مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام پر پہنچی جس کو حنین کہا جاتا تھا۔ یہاں ایک وادی تھی۔ اور اس کے دونوں طرف پہاڑیاں تھیں۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی جب وادی میں داخل ہوئے تو منصوبہ کے مطابق مالک بن عوف کے آدمیوں نے دونوں طرف سے نکل کر آپ کے اوپر یکبارگی حملہ کر دیا۔ وہ لوگ تیراندازی کے ماہر تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کے اوپر تیروں کی بارش شروع کر دی۔ اس زبردست حملہ کے نتیجہ میں مسلمان دفاع پر مجبور ہو گئے۔ اس مقابلہ میں اولاً نقصان ہوئی اور پھر اللہ تعالی نے انھیں مالک بن عوف اور ان کے لشکر کے اوپر فتح عطا فرمائی۔ اس واقعہ کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حنین کی یہ جنگ واضح طور پر ایک دفاعی جنگ تھی۔ اس جنگ میں ہوازن اور ثقیف کی حیثیت یقینی طور پر جارح کی تھی اور رسول اور اصحابِ رسول کی حیثیت یقینی طور پر مدافع کی (اس بحث میں تین غزوہ کا ذکر الگ الگ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ غزوات ہر اعتبار سے الگ ہیں ۔ ان کی علیحدگی علامتی ہے نہ کہ حقیقی) جنگ کا اصلاحی رخ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں جو لڑائیاں پیش آئیں وہ اپنی حربی نوعیت کے اعتبار سے دفاعی تھیں ۔ مگر جب فریقِ ثانی کی جارحیت کے نتیجہ میں لڑائی پیش آگئی تو اسلام نے اس کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا دیا۔ دفاعی جنگ کو مقصدی جنگ یا مصلحانہ جنگ بنا دینا ایسا ہی ہے جیسے شر کو خیر کا ذریعہ بنا دینا۔ دوسروں نے جو چیز شر کے طور پر اٹھائی تھی اس کو اسلام نے خیر کی طرف موڑ دیا۔ اس سلسلہ میں دو خاص مثالیں اگلے صفحات میں نقل کی جا رہی ہیں۔ ایک، منکرینِ رسالت پر سنتِ الہی کا اجراء ۔ اور دوسرے، مشرکانہ جبر کے فتنہ کا استیصال۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page