Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

منکرین رسول کی تکذیب پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے معاملہ میں خدا کی ایک خاص سنت ہے جس کا ظہور کسی ایک یا دوسری صورت میں ہر پیغمبر کے زمانہ میں ہوتا رہتا ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ پیغمبر جب اپنی مخاطب قوم پر اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچادے۔ مگر وہ قوم اس کے باوجود پیغمبر کا انکار کرے۔ حتی کہ اس کی ظالمانہ کارروائیوں کی بنا پر پیغمبر کو اپنے وطن سے ہجرت کرناپڑے۔ جب کسی قوم کی طرف سے اس قسم کار عمل پیش آئے تو اس کے بعد اس قوم کی مہلت عمر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے تاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ اپنے کردار کا انجام بھگتے۔ قرآن میں یہ قانون مختلف مواقع پر بیان ہوا ہے۔ ایک آیت یہ ہے: وان كادوا ليستفزونك من الارض اور یہ لوگ اس سرزمین سے تمہارے قدم اکھاڑنے ليخرجوک منها و اذا لا يلبثون خلافک لگے تھے تاکہ تم کو اس سے نکال دیں۔ اور اگر ایسا ہوتا الا قليلا - سنة من قد ارسلنا قبلک تو تمہارے بعد یہ بھی بہت کم ٹھہرنےپاتے۔ جیسا کہ ان من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحویلا رسولوں کے بارے میں ہمارا طریقہ رہا ہے جن کو ہم (۷۶:۱۷ - ۷۷) نے تم سے پہلے بھیجا تھا اور تم ہمارے طریقہ میں تبدیلی نہ پاؤ گے۔ اتمام حجت کے بعد پیغمبروں کے منکرین پر خدا کے اس فیصلہ کا نفاذ بار بار ہوا ہے۔ تا ہم قدیم زمانہ میں یہ نفاذ زیادہ تر زمینی یا آسمانی آفتوں کی صورت میں ہوا۔ قرآن میں اس تاریخ کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فكلا اخذ نا بذنبہ فمنهم من ارسلنا پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑا۔ عليه حاصبا ومنهم من اخذته الصيحة پھر ان میں سے بعض پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ومنهم من خسفنا به الارض ومنهم من بھیجی۔ اور ان میں سے بعض کو کڑک نے آپکڑا۔ اور أغرقنا - وما كان الله ليظلمهم ولكن ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور كانوا انفسهم يظلمون (۲۹/ ۴۰) ان میں سے بعض کو ہم نے غرق کر دیا۔ اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا۔ مگر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page