Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

کر رہے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ صورت پیش آئی کہ اگر چہ ایک طبقہ نے آپ کی دعوت کا انکار کیا۔ مگر اسی کے ساتھ بہت سے لوگ آپ کی دعوت سے متاثر ہوئے۔ اس طرح آپ کے گرد اہل ایمان کی ایک طاقت ور جماعت اکٹھا ہوگئی۔ اس بنا پر آپ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہوئی کہ خود آپ کے مومنین کو آپ کے منکرین کے اوپر خدائی فیصلہ کے نفاذ کا ذریعہ بنایا جائے ۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ انی لم ابعث لا عذب بعذاب الله انما بعثت لضرب الرقاب وشـد الـوثـاق (تفسیر ابن کثیر ۲ / ۲۹۳ ) یہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں مذکور ہے کہ قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم ( التوبہ ۱۴ ) یعنی منکرین رسول جن کے اوپر حجت پوری ہو چکی ہے ان سے جنگ کرو ۔ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں سے ان کے اوپر وہ عذاب نازل کرے جو ان کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں : فهذه حكم شرع الله جهاد الكفار یہی وہ حکمتیں ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مومنین کے بايدى المومنين لاجلها وقد كان ہاتھوں کفار کے جہاد کو مشروع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تعالى انما يعاقب الامم السالفة پیغمبروں کا انکار کرنے والی پچھلی امتوں کو مہلک المكذبة للانبياء بالقرار ع التي تعم آفتوں کے ذریعہ سزا دیتا رہا ہے جو تمام منکر امت تلك الامم المكذبة كما اهلك قوم نوح کے لئے عام ہوتی تھی۔ جیسا کہ اللہ نے قوم نوح کو طوفان بالطوفان وعاد الاولی بالدبور و سے ہلاک کیا اور قوم عاد کو آندھی سے اور قوم ثمود کو ثمود بالصيحة وقوم لوط بالخسف وقوم چنگھاڑ سے اور قوم لوط کو دھنسا دینے سے اور قوم شعيب بيوم الظلة (تفسير ابن کثیر ۲ / ۲۹۱ ) شعیب کو سائبان والے دن کی آفت سے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطب مکہ کے قریش تھے۔ مکی دور کے آخر میں جب یہ ثابت ہوگیا کہ پیغمبر نے انھیں اپنا پیغام پوری طرح پہنچا دیا ہے اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر جمیے ہوئے ہیں تو اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ فقد كذبتم فسوف يكون لزاما ( الفرقان ۷۷ ) یعنی اب تم آخری طور پر جھٹلا چکے ، پس عنقریب تم سے ہوئی ہے مڈبھیڑ ۔ یہ آیت گویا ایک مرحلہ کے خاتمہ اور دوسرے مرحلہ کے آغاز کا اعلان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page