اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخی شواہد کے مطابق ، بدر کی جنگ اصلاً مشرکین مکہ کی جارحیت کے نتیجہ میں پیش آئی ۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پورے معنوں میں ایک دفاعی جنگ تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اس میں مقصدی پہلو شامل کر دیا۔ اس جنگ کو وہ موقع بنا دیا گیا جس کے ذریعہ منکرین حق کو ان کے انکار کی وہ سزا دی جائے جو سنت الہی کے مطابق منکر قوموں کے لئے مقدر ہے۔ بدر کی جنگ جن لوگوں سے لڑی گئی وہ اس سے پہلے مکہ میں واضح جارحیت کا مظاہرہ کر چکے تھے۔ اس طرح وہ اس کا جواز فراہم کر چکے تھے کہ ان کے خلاف دفاعی کارروائی کی جائے۔ مذکورہ مصلحت کی بنا پر کہ میں ان کے خلاف دفاعی کارروائی نہیں کی گئی۔ کیوں کہ دفاعی کارروائی کے ساتھ تعذیب کا پہلو شامل تھا۔ اور اس قسم کی تعذیب ہمیشہ رسول کی ، ہجرت کے بعد ہوتی ہے ۔ وہ کبھی ہجرت سے پہلے نہیں ہوتی۔ اس مخصوص پہلو نے بدر کی جنگ کو ایک خصوصی جنگ بنا دیا۔ اس کا ایک فریدینہ یہ ہے کہ یہ واحد جنگ تھی جس میں فرشتے اہل اسلام کی طرف سے لڑنے کے لئے اترے۔ اس ایک جنگ کے سوا کسی اور جنگ میں فرشتے لڑائی لڑنے کے لئے نہیں اتارے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آگئے تو قریش کے درمیان یہ تحریک اٹھی کہ مدینہ پر حملہ کرکے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے تمام اہل مکہ کے چندہ سے رقم جمع کی گئی اور ابو سفیان کی سرکردگی میں ایک تجارتی قافلہ شام بھیجا گیا اور یہ طے پایا کہ اس تجارت سے جو نفع ہوگا وہ سب کا سب مدینہ کے خلاف لشکر کشی میں استعمال کیا جائے گا۔ آخر شعبان ۲ھ میں قریش کا یہ قافلہ اموال تجارت لے کر شام سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس قافلہ میں ایک ہزار اونٹ تھے جن کے اوپر مختلف قسم کے سامان لدے ہوئے تھے۔ شام سے مکہ کار راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا تھا۔ رسول اور اصحاب رسول نے یہ طے کیا کہ اس قافلہ پر چھاپہ مارا جائے ۔ اس مقصد کے لئے ۳۱۳ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ اپنے جاسوسی نظام کے تحت قریش کو اس کا علم ہوگیا کہ مسلمان تجارتی قافلہ کو روکنے کے لئے مدینہ سے نکل رہے ہیں۔ انھوں نے مکہ میں منادی کرائی کہ تمام قابل جنگ مرد ہتھیاروں کے ساتھ نکلیں تاکہ محمد کا مقابلہ کرکے ان کا اور ان کے دین کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس طرح اب مقابلہ کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader