اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
دشمن کے دو گروہ ہو گئے ایک تجارتی قافلہ جس کے ساتھ تقریباً چالیس آدمی بطور محافظ تھے ۔ دوسرے قریش کا لشکر جس میں ایک ہزار جنگجو ہتھیاروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ اس سلسلہ میں سورہ الانفال کی حسب ذیل آیتوں کا مطالعہ کیجئے : جیسا کہ تمہارے رب نے تم کو حق کے ساتھ تمہارے گھر سے نکالا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تم سے جھگڑا رہے تھے باوجودیکہ وہ ظاہر ہو چکا تھا ، گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں آنکھوں دیکھتے ۔ اور جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک تم کو مل جائے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے۔ اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کا حق ہونا ثابت کر دے اپنے کلمات سے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔ جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگاتا ر بھیج رہا ہوں ... جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردن کے اوپر مارو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ ( ۵ - ۱۲ ) قرآن میں غزوہ بدر کو یوم الفرقان (الانفال (۴۱) کہا گیا ہے۔ اس دن اللہ نے اپنی خصوصی مدد اتاری تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے ( الانفال ۴۲ ) ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ فرشتوں نے غزوہ بدر کے سوا کسی اور غزوہ میں جنگ نہیں کی ( لم تقاتل الملائكة في يوم سوى يوم بدر من الایام) سيرة ابن هشام ۲/ ۲ ۷۲ بدر ایک کنویں کا نام تھا۔ یہ جگہ مدینہ سے ۸۰ میل کے فاصلہ پر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے معرکہ سے فارغ ہو کر واپس ہوئے۔ آپ رو حاء کے مقام پر پہنچے تو مسلمان آگے بڑھ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو اس فتح کی خوش خبری دی جو اللہ نے انھیں عطا کی تھی ۔ اس وقت ایک بدری سلمہ بن سلامہ نے کہا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader