اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
ما الذي تمنؤنا به ۔ فواللہ ان لقينا تم تم کو کس چیز کی مبارک باد دے رہے ہو ۔ الا عجائز نضلعا كالبدن المعلقة فنحرناها خدا کی قسم، ہم کو تو بوڑھے گنجے لوگوں سے مقابلہ (سیرۃ ابن ہشام ۲ / ۲۸۶ ) پیش کیا ۔ وہ قربانی کے بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھے، پس ہم نے ان کو ذبح کر دیا۔ بدر کی جنگ اپنی ظاہری نوعیت کے اعتبار سے بلاشبہ دفاعی تھی۔ مگر جب فریق ثانی کا انکار مزید آگے بڑھ کر جارحیت بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی سنت کے اجرا کا ذریعہ بنا دیا۔ اس وقت اہل اسلام کی تعداد بہت کم تھی۔ ان کے مقابلہ میں اہل انکار بہت زیادہ طاقت ور حیثیت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ليقضي الله أمراً مفعول (الانفال ۴۴) کے تحت فرشتوں کی فوج بھیج کر اس کمی کی حسن تلافی کا انتظام کر دیا۔ بدر کے علاوہ جنگوں میں بھی ایک حد تک بدر والا پہلو شامل ہے۔ مگر بدر کی جنگ میں یہ پہلو مکمل طور پر شامل تھا ، اس لئے اس میں فرشتے اہل ایمان کی مدد کے لئے اتارے گئے۔ نظام جبر کا استیصال دفاعی جنگ کے دوران دوسرا فائدہ جو اسلام کے دور اول میں حاصل کیا گیا، وہ شرک جارح کے فتنہ کو ختم کرنا تھا۔ یہ حکم جن آیتوں میں دیا گیا ان میں سے ایک واضح آیت یہ ہے: و قاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے الدين كله لله (الانفال ۳۹) اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ اس حکم سے مراد یہ تھا کہ مذہب ہی جبر کو ختم کر دیا جائے ، اور آزادی مذہب کا در در دنیا میں لا پا جائے۔ ایک صحابی نے اسی مشن کو ایرانی حکمران کے سامنے اخراج العباد من عبادة العباد الى عباد ۃ اللہ کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا اور صحابہ کرام کے زمانہ میں وہ آخری حد تک انجام پا گیا۔ آج کا ایک حکمران عوامی ووٹ کی دلیل سے حکومت کرتا ہے۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا دنیوی ظہر ہیں۔ وہ خدا کے مقدس نمائندے ہیں۔ یہی قدیم زمانہ کے تمام حکمرانوں کا عام معاملہ تھا (118/16-EB)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader