اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
مقدّس بادشاہت (sacred kingship) یا خدائی حقوقِ بادشاہی (divine right of kings) قدیم زمانہ کا عام رواج تھا۔ دنیا بھر کے تمام چھوٹے بڑے حکمران کسی نہ کسی طور پر "خدائی بادشاہ" بنے ہوئے تھے۔ اس بنا پر قدیم زمانہ میں ہر جگہ شاہانہ آمریت (monarchical absolutism) قائم تھی۔ بادشاہ کو اپنی رعایا کے اوپر ہر قسم کا کامل اختیار حاصل تھا۔ بادشاہ مطلق طور پر یہ حق رکھتا تھا کہ وہ حکم دے، اور عوام کی یہ مطلق ذمہ داری تھی کہ وہ بے چون و چرا بادشاہ کے حکم کی اطاعت کریں (III/583) قدیم بادشاہوں نے مطلق حکمرانی کا یہ حق مشرکانہ مذہبی عقائد کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔ مشرکانہ مذہب اس عقیدہ پر قائم ہے کہ خدا اگرچہ ایک ہے مگر وہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ قدیم بادشاہوں نے اس عقیدہ سے فائدہ اٹھایا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ خدا کی تجسیم ہیں۔ خدا ان کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہوا ہے۔ اس بنا پر ان کو حق ہے کہ وہ انسانوں کے اوپر مطلق حکمرانی کریں۔ یہ بادشاہ جب یہ کہتے تھے کہ "میں خدا ہوں" تو ان کا یہ دعویٰ مشرکانہ مذاہب کے مطابق ہوتا تھا۔ مگر موحدانہ مذہب اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ کیوں کہ توحید کے عقیدہ کے مطابق خدا ہر اعتبار سے صرف ایک ہے۔ خدا کی خدائی میں کسی بھی پہلو سے کوئی شریک و سہیم نہیں۔ اس طرح مشرکانہ مذہب ان بادشاہوں کے موافق اور موحدانہ مذہب ان کے خلاف ہو جاتا تھا۔ وہ مشرکانہ مذہب کی سرپرستی کرتے تھے اور موحدانہ مذہب کو کچلنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وہ سیاسی نظام ہے جس نے قدیم زمانہ میں وہ صورت حال پیدا کر رکھی تھی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ کے بادشاہوں نے ہر جگہ مشرکانہ مذہب کو سرکاری مذہب بنا رکھا تھا۔ وہ اس کے نام پر بڑے بڑے معبد بناتے تھے۔ جب بھی وہ دیکھتے کہ کوئی شخص توحید کی دعوت لے کر اٹھ رہا ہے تو اس کو وہ ریاست کا غدار سمجھتے تھے اور پوری طاقت سے اس کو کچل دیتے تھے۔ یہی وہ تاریخی صورت حال ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لے آئے ( البروج ۸)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader