اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
نے دو طریقہ اختیار کیا۔ ایک، ایسی حکومتوں سے لڑا کر ان کو توڑ دینا، دوسرے، سیاسی نظام میں شخصی حکومت کے بجائے اس چیز کو رواج دینا جس کو موجودہ زمانہ میں جمہوری حکومت کہا جاتا ہے۔ پہلے عمل کا آغاز عرب میں ہوا۔ عرب میں قریش کا قبیلہ یہی حیثیت حاصل کئے ہوئے تھا۔ وہ خود مشرک کا نہ عقائد کو مانتے تھے اور انھوں نے عرب کے قبائل کے بتوں کا سر پرست بن کر پورے ملک میں اپنی سیاست قائم کر رکھی تھی۔ انھوں نے دور اول کے مسلمانوں کے ساتھ بد ترین قسم کی زیاد تیاں کیں۔ ان مسلمانوں کا قریش سے کوئی معاشی یا سیاسی جھگڑا نہ تھا۔ ان کا قصور صرف وہ تھا جس کی بابت رجل مومن نے فرعون سے کہا تھا کہ کیا تم ایک شخص کو صرف اس لئے قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف ایک اللہ ہے ( المومن ۲۸ ) قریش کی جارحیت جب زیادہ بڑھ گئی تو اصحاب رسول نے ان سے جنگ کی۔ اس جنگ میں انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی۔ آخر کار عرب کے قریش کا مشرکانہ اقتدار ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ عرب کے باہر اس زمانہ میں " سیاسی شرک " کے دو بڑے سر پرست تھے۔ ایک بازطینی امپائر اور دوسرے ساسانی امپائر۔ ان دونوں شہنشاہیوں نے بہت بڑے پیمانہ پر مذہبی جبر قائم کر رکھا تھا۔ اسی بناء پر جب ان کے پڑوس عرب میں توحید کی دعوت اٹھی تو دونوں حکومتیں اس کی دشمن بن گئیں۔ کیوں کہ توحید کے عقیدہ کا فروغ ان کی مشرکانہ عقائد پر مبنی سیاست کی تردید تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں حکمرانوں کو توحید کی دعوت دی۔ دونوں نے آپ کے پیغام کی تحقیر کی۔ حتی کہ انھوں نے خود آپ کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔ اس کے نتیجہ میں ان کے ساتھ اہل اسلام کی جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ اپنی ظاہری نوعیت کے اعتبار سے دفاعی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اس میں نہایت اعلیٰ مقصدی پہلو شامل کر دیا۔ اور اہل اسلام کی خصوصی مدد فرمائی۔ چنانچہ غیر تناسب مقابلہ کے باوجود بہت کم مدت میں وہ دونوں نظاموں کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اسلام کی تاریخ میں ہر جنگ کے اسباب فوق المخالف نے پیدا کئے ۔ جب جنگ چھڑ گئی تو اسلام نے ہر بار اس کو مثبت مقصد کے لئے استعمال کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader