Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

جمہوری دور موجودہ زمانہ میں ڈیموکریسی کے مورخین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ ڈیموکریسی کا آغاز یونان کی شہری ریاستوں (city-states) سے ہوا۔ مگر متعدد وجوہ سے یہ بیان درست نہیں۔ یہ نام نہاد شہری ریاست حضرت مسیح سے تقریباً پانچ سال پہلے صرف مختصر مدت کے لئے یونان میں قائم ہوئی۔ اس میں اور جدید ڈیموکریسی کے ظہور میں دو ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ نیز یہ کہ یہ حقیقتً یونان کے خواص کا ایک سیاسی نظام تھا۔ اس میں عوام کا حصہ بہت کم ہوتا تھا (III/458) تاریخ بتاتی ہے کہ غلاموں کا طبقہ اور بہت سے عوام اس سیاسی ڈھانچہ میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ ایتھنز کی شہری ریاست ، اپنی آخری کامل صورت میں جو اس کو چوتھی صدی قبل مسیح میں حاصل ہوئی، زیادہ تر محدود اقلیت کی ڈیموکریسی تھی۔ وہ یونان کے امرا کی ڈیموکریسی تھی جو کل آبادی کا دس فیصد حصہ تھے۔ ایتھنز کا کلچر بدستور امرا کا کلچر بنا ہوا تھا: Athenian culture continued to be oriented toward the noble life. (6/323) حقیقت یہ ہے کہ ڈیموکریسی حقیقی معنوں میں ، تاریخ میں پہلی بار اسلام نے قائم کیا۔ اسلام جمہوری دور کا خالق ہے۔ اسلام سے پہلے تمام معلوم تاریخ میں بادشاہت کا نظام رائج تھا۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار جمہوری دور کا آغاز کیا۔ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو جمہوری نظام کہا جاتا ہے اس کو قرآن میں شورائی نظام کہا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، اس کے بعد خلفاء راشدین کے زمانہ میں اور پھر عمر بن عبد العزيز کے زمانہ میں شورائی (یا جمہوری) نظام اپنی کامل صورت میں قائم رہا۔ اس کے بعد اگر چہ اس میں کمیاں پیدا ہوئیں۔ مگر نظام نہ کہ کی حیثیت سے صد فی صد اور عملی ڈھانچہ کی حیثیت سے پچاس فیصد وہ تاریخ میں جاری رہا۔ موجودہ زمانہ کی مغربی جمہوریت اسی کے زیر اثر ظہور میں آئی ہے۔ سیاست میں غیر شخصی نظام لانے کے لئے قرآن میں یہ اصولی حکم دیا گیا کہ ان کا کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے (وأمرهم شورى بينهم، الشوری (۳۸) اس کے مطابق، اجتماعی معاملات میں صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ محض ذاتی رائے کی بنیاد پر ایک فیصلہ کیا جائے اور اس کے مطالبے سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page