Urdu book · مضامین اسلام

اسلامی جہاد کیا ہے

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا۔ یہاں تک کہ اس عمل کی تکمیل پر آخر کار وہ برائی ختم ہو گئی۔ اس کی ایک مثال انسانوں کو غلام بنانے کا رواج ہے۔ اس معاملہ میں یہی ہوا کہ اسلام نے تاریخ میں ایک عمل جاری کر دیا جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ ایک عرصہ بعد غلامی کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ اجتماعی خرابیوں کی اصلاح کے لئے تدریجی طریقہ ہی درست ہے۔ تدریجی طریقہ سے برائی آخر کار ختم ہو جاتی ہے۔ نام نہاد انقلابی طبقہ کار سے ایک برائی ختم ہو کر دوسری شدید تر برائی پیدا ہو جاتی ہے۔ شخصی نوعیت کی مطلق حکمرانی کے معاملہ میں بھی یہی پیش آیا۔ اس برائی کو اچانک پوری طرح مٹا دینا ممکن نہیں تھا۔ اسلام نے اس کے خلاف فکری انقلاب بر پا کیا۔ اس کے حق میں مشاورتى نظام حکمرانی کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کی۔ اس کے بعد تاریخ میں اس کا عمل جاری ہو گیا۔ بعد کے زمانہ میں اگر چہ مسلم سلاطین کے یہاں خاندانی حکومت کا رواج شروع ہو گیا۔ مگر ابتدائی اسلامی انقلاب کے اثرات اتنے طاقت ور تھے کہ مسلم سلاطین دوبارہ کبھی مطلق شہنشاہیت کا طریقہ اختیار نہ کر سکے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۱) میں "اسلام" کے مقالہ کے تحت اعتراف کیا گیا ہے کہ بنو امیہ کے بعد اگر چہ مسلم سلاطین کے یہاں شوریٰ کا سابقہ نظام باقی نہ رہا۔ مگر اس تبدیلی کے باوجود، مسلم حکمرانوں کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ مطلق حکمراں بن جائے۔ کیوں کہ شرعی قانون نے اس کے اوپر ایک اساسی پابندی عائد کر رکھی تھی، جس کے تحت وہ حکومت کا حق حاصل کرتا تھا اور جس کی تنفیذ اور جس کے دفاع کا وہ پوری طرح پابند تھا : اس طرح اسلام کا شورائی انقلاب " تاریخ میں جاری ہو گیا۔ وہ ایشیا سے افریقہ، افریقہ سے یورپ، یورپ سے امریکہ کی طرف سفر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس سیاسی انقلاب تک پہنچ گیا جس کو موجودہ زمانہ میں جمہوریت (ڈیموکریسی) کہا جاتا ہے۔ عبداللہ یوسف علی نے اپنی کتاب (Religous polity of Islam) میں بجا طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page