اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے شعور کی (representative government) لکھا ہے کہ جدید دنیا کی نمائندہ حکومت کے اصول کو اسٹیٹ کے معاملات میں منطبق کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جدید مغرب میں جو نمائندہ جمہوریت (representative democracy) آئی ہے اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی سیاسی عمل کی تکمیل ہے جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے عرب میں شروع کیا تھا۔ اس کا م اخذ یونان کی شہری ریاست (city-state) نہیں ہو سکتی جس کے اور یورپی جمہوریت کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام کا مآخذ قرون وسطی کے افکار (medieval ideas) ہیں (III/458) یہ خیالات و افکار یورپی مفکرین کو مسلم لٹریچر کے یورپی زبانوں میں ترجمہ کے ذریعہ پہنچے۔ ان کے مطالعہ سے یورپی علماء کو فکری رہنمائی ملی۔ انھوں نے اس راستہ پر چل کر وہ سیاسی تحریکیں برپا کیں جنہوں نے آخر کار یورپ سے بادشاہت کو ختم کیا اور جمہوری دور کا آغاز کیا۔ فرانس کا روسو جو جمہوری انقلاب کے بانیوں میں سمجھا جاتا ہے ، اس کی کتاب معاہدہ عمرانی (Du contract social) ۱۶۶۲ میں چھپی۔ اس کتاب کا یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ "انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر جگہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔" مگر حقیقت یہ ہے کہ روسو کا یہ جملہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے جملہ کی صدائے بازگشت ہے جو انھوں نے روسو سے گیارہ سو سال پہلے مدینہ میں کہا تھا۔ انھوں نے حاکم مصر عمروبن العاص کے بیٹے پر جمہوری برابری کا عملی نفاذ کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا۔ حقوق انسانی کا عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) جو ۱۹۴۸ میں تمام قوموں کے دستخط سے جاری ہوا ، اس کے آرٹیکل ۱۸ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ہر شخص خیال یا ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق رکھتا ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدہ کو بدلنے کا حق بھی شامل ہے ، اس میں یہ حق بھی شامل ہے کہ کوئی شخص اپنے مذہب کا اظہار کرے یا اس کی تعلیم دے یا اس پر عمل کرے یا اس کے مطابق عبادت کرے ، خواہ تنہا یا جماعت کے ساتھ ، عوامی طور پر یا ذاتی طور پر :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader