اسلامی جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
Everyone has the right to freedom of thought, conscience and religion; this right includes freedom to change his religion or belief, and freedom, either alone or in community with others and in public or private, to manifest his religion or belief in teaching, practice, worship and observance. (X/1050). یہ اعلان آج بظاہر سادہ سا معلوم ہوتا ہے۔ مگر پچھلے ہزاروں سال تک یہ سادہ حق اھل مذاہب کو حاصل نہ تھا۔ مذہب کی بے ضرر تبلیغ بھی نہ صرف ممنوع تھی بلکہ وہ ریاست کے خلاف غداری کے ہم معنی تھی ۔ چنانچہ پہلے تمام زمانوں میں مذہبی تشدد (religious persecution) تمام قوموں اور ملکوں میں عام رہا ہے (VII/583) اس عمومی مذہبی تشدد کو نافذ کرنے والے زیادہ تر مشرک حکمران تھے۔ اس بنا پر توحید کی دعوت کا کام ساری دنیا میں مشکل ترین کام بن گیا تھا۔ اسی حقیقت کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ قدیم زمانہ میں کسی کو یہ کہنے کی اجازت نہیں تھی کہ اللہ ایک ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا اعلان کرتا تو اس کو سخت عذاب دیا جاتا۔ حتیٰ کہ ایک شخص کو زمین میں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا اور اس کے سر پر آ رہ چلا دیا جاتا جس کے نتیجہ میں اس کے جسم کا آدھا حصہ ایک طرف گر جاتا اور آدھا حصہ دوسری طرف ۔ اسلامی انقلاب کے بعد جب شاہانہ جبر کا خاتمہ ہوا تو دنیا میں آزادی کی لہر چل پڑی۔ یہ لہر مکہ ، مدینہ ، دمشق ، بغداد ، اسپین اور سسلی ہوتی ہوئی یورپ میں داخل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آزادی ایک مسئلہ انسانی حق کی حیثیت سے تسلیم کر لی گئی ۔ اب ہر شخص کو فکر و خیال کی مکمل آزادی ہے۔ ہر شخص کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے ۔ آزادی کا یہ انقلاب مسلمانوں کی آزادی کے طور پر نہیں آیا بلکہ تمام انسانوں کی آزادی کے طور پر آیا ہے۔ ایسی حالت میں قدرتی بات ہے کہ ہر ایک اس کو استعمال کرے گا۔ اس بنا پر بولنے والے اسلام کے خلاف بھی بولیں گے۔ وہ باطل عقائد کا پرچار کریں گے۔ مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس آزادی نے دین توحید کو تاریخ میں پہلی بار کامل آزادی دے دی ہے ۔ اس نے اہل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader