کیا تمام مذاہب ایک ہیں
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
وحدتِ ادیان پر تبصرہ اب اس عقیدے کا تجزیہ کیجئے۔ ” تمام مذاہب سچے ہیں“ کا مطلب کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ سب کا سب حقیقت ہے۔ اگر تمام مذاہب کے برحق ہونے کا مطلب یہ ہو تو یہ اتنی غیر عقلی بات ہے جس پر کسی طرح یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مختلف مذاہب کی تعلیمات میں کافی اختلاف ہے۔ مثلاً اسلام اور ہندو دھرم کو لیجیے۔ ہندو تعلیمات کے مطابق خدا یا خدائی اختیارات رکھنے والی ہستیاں بہت سی ہیں۔ جبکہ اسلام کے نزدیک یہ ہستی صرف ایک ہے۔ اسی طرح عبادات اور اعمال میں دونوں مذاہب کے طریقے بالکل جدا ہیں۔ مرنے کے بعد کیا ہوگا اور زندگی کا آخری انجام کیا ہے۔ اس کے متعلق بھی دونوں مذاہب کے جوابات بالکل مختلف ہیں۔ اسلامی تصور کے مطابق انسانوں کے پاس خدا کا پیغام، رسولوں کی معرفت بذریعہ وحی آتا ہے۔ اس کے برعکس ہندو نظریہ یہ ہے کہ جب دنیا میں بگاڑ ہوتا ہے تو خود ” بھگوان انسانی شکل میں اوتار“ لیتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار اختلافات ہیں جو دونوں مذاہب کے فلسفہ اور عمل میں پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہوگی کہ ان میں سے ہر ایک کو صحیح مان لیا جائے۔ مذہبی وحدت کی بات کس قدر بے معنی ہے، ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ مہاتما گاندھی نے گائے کے متعلق لکھا ہے: ”گائے کی حفاظت ایک ہندو کی محبوب ترین چیز ہے۔ جو شخص گائے کے تحفظ میں یقین نہیں رکھتا وہ ہرگز ہندو نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عظیم عقیدہ ہے۔ میرے نزدیک گائے کی پوجا کے معنی ہیں، معصومیت کی پوجا، گائے کی پوجا کمزور اور بے سہارا کی پوجا کا نام ہے۔ My Religion, p. 154 دوسری طرف اسلام کے نزدیک گائے اس لئے ہے کہ وہ انسان کے لئے خوراک اور دوسری ضروری چیزیں فراہم کرے۔ وہ اس کو ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور اس کے گوشت کو انسان کے لئے پاک غذا بناتا ہے۔ اگر مہاتما گاندھی کے تجزیے کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہندو دھرم لۂ اونار کے معنی ہیں ”غیر ظاہر صورت سے ظاہر صورت میں ظہور پذیر ہونا “

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader