کیا تمام مذاہب ایک ہیں
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
محسوس کرے گا کہ حقیقی معنوں میں مشترک اجزاء کی تلاش کچھ زیادہ مفید نہیں ہے۔ اس لئے وہ مذاہب کی اصل تعلیمات کو غلط مفسوم دے کر اپنی فہرست کو مکمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر بھگوان داس کی مندرجہ بالا کتاب کی مثال دی جا سکتی ہے جو اس قسم کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلاً ایک مقام پر انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان " بقائے باہم " کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے بلکہ یہی تمام مذاہب کی اصل روح ہے۔ جو لوگ مذاہب کے درمیان اس قسم کی موافقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی حیثیت ان کے نزدیک " ریفارمر " کی ہے (صفحہ ۸۴) فرماتے ہیں : ” تمام مذاہب یکساں قسم کی سچائیوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ مذاہب کے داعی اس پر بالکل متفق ہیں۔ اس مسئلے پر ہمیں ان کی واضح یقین دہانی حاصل ہے ۔“ Essential Unity of All Religions, p.75 اس کے بعد مختلف مذاہب کے اقتباسات پیش کر کے اپنے دعوے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اسلام کی تعلیم بھی ان کے نزدیک یہی ہے کہ " بنیادی باتیں تمام مذاہب میں یکساں ہیں ۔ سچائی ایک عالمگیر چیز ہے۔ وہ کسی نسل یا مذہب کے داعی کی اجارہ داری نہیں ہے " (صفحہ (۸۲) اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے قرآن کی چار آیتیں پیش کی ہیں اور ہر ایک کا بالکل غلط مفہوم بیان کیا ہے۔ مثلاً ایک آیت یہ ہے : واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا (آل عمران) اس آیت کا ترجمہ انھوں نے جن الفاظ میں کیا ہے وہ یہ ہے: Cling, all to the strong rope of Love Divine - Love for each other, and of the One God - and do not think of separation ever. (p. 83) یعنی سب کے سب خدائی محبت کی رسی سے چمٹ جاؤ ، ایسی محبت جو ایک دوسرے کے لئے ہو اور ایک خدا کے لئے ہو، اور علیحدگی کی بات کبھی نہ سوچو ۔ اگر آپ آیت کو اس کے اصل مقام میں رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس کا مفہوم اس سے بالکل مختلف ہے جس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے اسے استعمال کیا ہے ؛ یہ سورہ آل عمران کی آیت ہے۔ آیت کے سیاق و سباق اور صحیح روایات کے مطابق یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader