کیا تمام مذاہب ایک ہیں
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
حبل اللہ سے مراد ” قرآن ہے ۔ یہاں در اصل یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمام لوگ ، خواہ وہ کسی سابقہ کتاب الہی کے حامل ہوں یا اس کے بغیر ہوں ، ان کو چاہئے کہ ادھر ادھر منتشر رہنے کے بجائے خدا کی اس رسی کو مضبوط پکڑ لیں جس کو خدا کا آخری رسول لے کر آیا ہے ۔ مگر حبل اللہ کو محبت سے تعبیر کر کے آیت کے مفہوم کو بالکل الٹ دیا گیا ۔ اب اس آیت کا مطلب یہ ہو گیا کہ ہر شخص اپنے طور پر جس چیز کو حق سمجھتا ہے ، محبت انسانی کا تقاضا ہے کہ اس کو ایسا سمجھنے دیا جائے ۔ ہر آدمی اپنے اپنے پسندیدہ دین پر قائم رہتے ہوئے محبت کے فرضی دیوتا کے گرد جمع ہو جائے ۔ قرآن کے گرد سب کو اکٹھا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب ندائب کی انسائیکلوپیڈیا میں مگر حیرت ہے کہ اپنا یہ نظریہ انھوں نے قرآن کی اس سورہ سے اخذ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خدا کے نزدیک دین صرف اسلام اور جو لوگ اس سے اختلاف کر رہے ہیں وہ خواہ کسی سابق کتاب الہی کے حامل کیوں نہ ہوں ، وہ کفر اور بغاوت کے مجرم ہیں ۔ (آل عمران (۱۸) جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص اسلام اختیار کیے وہی ہدایت یاب ہے (۱۹) جس میں کہا گیا ہے کہ رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت سے انکار ر کفر یعنی خدا کی وفاداری سے انکار کرنا ہے (۳۱) جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین خدا کے یہاں مقبول نہیں ہے ۔ جو شخص کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا وہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں نا کام و نامراد ہو گا (۸۵) جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تو میں جن پر پہلے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی تھی ان کے لئے بھی اب صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ آخری رسول پر ایمان لائیں ۔ ان میں سے جو ایسا کرے گا وہی در اصل خدا کا وفادار ہے اور جو ایسا نہ کرے وہ خدا کا نافرمان ہے ۔ (۱۰۹) مگر ان واضح تصریحات کے باوجود ایک بالکل مختلف بات اسلام کی طرف منسوب کر دی گئی کیوں کہ اس کے بغیر "عالی مذہب" کی اہمیت ثابت نہیں ہو سکتی تھی ۔ ۳ پھر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اور گردہ مذہب کے نام سے جو کچھ پیش کر دے اس کو حقیقت مان لیا جائے ۔ مگر یہ بدترین قسم کی موقع پرستی ہوگی ۔ یہ حق کو ناحق کے ساتھ گڈ مڈ کر دینا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص خدا کا انکار کرے اس کو بھی ہم صحیح مانیں اور جو شخص خدا کا اقرار کرے اس کو بھی صحیح تسلیم کریں ۔ جو کہے کہ کائنات میں صرف خدا ہی کو تصرف کا اختیار ہے وہ بھی صحیح اور جو کہے کہ خدا کے سوا کچھ اور دیوی دیوتا ہیں جن کو خوش کر کے کام نکالا جا سکتا ہے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader