Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی صحیح۔ جو کہے کہ مرنے کے بعد ایک اور دنیا میں جاناہے جہاں جنت اور دوزخ ہے وہ بھی صحیح، اور جو کہے کہ مرکر انسان دوبارہ اسی دنیا میں جنم پاتا ہے وہ بھی صحیح۔ جو کہے کہ خدا کی بندگی کی ضرورت صرف عبادت گاہوں کے اندر رہے وہ بھی صحیح، اور جو کہے کہ عبادت گاہ سے لے کر عدالت اور پارلیمنٹ تک ہر جگہ خدا ہی کے احکام کی پیروی ہونی چاہئے وہ بھی صحیح۔ جو کہے کہ خدا اس کائنات کا صرف محرک اول ہے وہ بھی صحیح اور جو کہے کہ خدا آج بھی ہمارا خدا ہے اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے وہ بھی صحیح۔ جو خدا کو انسان کی عجوبہ پسندی کی تخلیق سمجھے وہ بھی صحیح، اور جو خدا کو ایک وجود حقیقی قرار دے وہ بھی صحیح۔ جو خدا کی مکمل فرماں برداری میں انسان کی کامیابی سمجھے وہ بھی صحیح اور جو خدا کی فرماں برداری کے بغیر کامیابی کی توقع رکھے وہ بھی صحیح۔ اس نظریے کے مطابق حق ناحق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بھی صحیح ہے اور غلط بھی صحیح۔ مثلاً ہندوستان میں سیکولر حکومت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قانون سازی اور اس کی تمام کارروائی مذہب یا خدائی ہدایت سے آزاد ہو کر انجام دی جائے گی۔ یہاں انسانی آرا کے تحت فیصلہ ہوگا نہ کہ خدائی حکم کے تحت۔ یہ اصول صریح طور پر مذہب کے اس اصول سے ٹکراتا ہے کہ "انسان کو اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات میں خدا کے حکم کا پابند ہونا چاہئے" مگر وحدتِ حقیقت کا نظریہ ایسے کسی ٹکڑا کو تسلیم نہیں کرتا۔ نائب صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر رادھا کرشنن اس تضاد کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "شاید لوگوں کو تعجب ہو کہ ہماری تہذیب کی جڑیں تو روحانی قدروں میں پیوست ہیں لیکن ہماری حکومت غیر مذہب ہی ہے۔ دراصل غیر مذہبی ہونے سے مراد لامذہبیت یا درھیت یا مادی راحت کو اہم سمجھنا نہیں بلکہ اس بات کا اعلان کرنا اور اس پر زور دینا ہے کہ روحانی قدریں عالمگیر ہیں اور ان کو حاصل کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں" (قومی تہذیب کا مسئلہ، صفحہ ب) اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ نظریہ نہ صرف یہ کہ مذاہب کے باہمی اختلاف کو غیر اہم قرار دیتا ہے بلکہ اس کو ماننے کے بعد خدا پرستی اور الحاد میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس انتہائی نامعقول بات کو رواج دینے کی کوشش جو لوگ کر رہے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے اگر اپنی اپنی صداقت پر اصرار کریں تو ان میں باہم کشکش ہوگی اور انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page