Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک دوسرے سے لڑنے لگے لگا۔ اس لئے حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ ہر مذہب کو صحیح مان لیا جائے۔ مگر کسی ایک مذہب کی صداقت پر اصرار کو صرف اس بنا پر غلط نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے دوسرے مذہب والوں سے کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ اولاً تاریخ میں اس قسم کے جتنے جھگڑے ملتے ہیں ان میں بیشتر وہ ہیں جن کی ذمہ داری مذہب پر نہیں بلکہ مذہب کے ماننے والوں پر ہے۔ کسی نظریے کے ماننے والے جو عمل کریں اس کو لازمی طور پر اصل نظریے کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مہاتما گاندھی پورا چوری کے واقعہ کو ستیاگرہ کی روح کے خلاف قرار دینے میں حق بجانب تھے، اگر پولیس اور سرکاری عملہ کی بدعنوانی کے لئے قانون کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا تو یقیناً ہمیں ماننا ہوگا کہ اصل مذاہب کی غلطی کو مذہب کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج معاملات کے اوپر سے مذہب کی گرفت بہت ڈھیلی ہو چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود انسان کے درمیان باہمی لڑائیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ آج ہم کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ درپیش ہے جو اگر چھڑی تو وہ تاریخ کا ہولناک ترین فساد ہوگا۔ حالاں کہ اس جنگ کے اسباب پیدا کرنے میں مذہب کا بالکل کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ پھر باہمی فسادات کا رشتہ مذہب سے جوڑنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محض اختلاف اور کش کش کا پیدا ہونا کسی نظریے کو جانچنے کا کوئی صحیح طریقہ نہیں ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہر صداقت اس قسم کی کش کش پیدا کرتی ہے۔ اس سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ اگر اس کو معیار قرار دے دیا جائے تو محکوم ملکوں کی جدوجہد آرادی کو غلط قرار دینا پڑے گا۔ کیوں کہ اس سے حکمراں طبقہ اور محکوم طبقہ کے درمیان کش کش پیدا ہوتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق تمام مزدور تحریکیں غلط ہیں کیوں کہ ان کی وجہ سے سرمایہ و محنت کے لیے شمار جھگڑے پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی طرح بہت سے نظریات جن کی صداقت پر آپ یقین رکھتے ہیں ان کو خیر باد کہنا پڑے گا۔ کیوں کہ ان کی وجہ سے آپ کو ان لوگوں سے اختلاف کرنا پڑتا ہے جو آپ کے نظریے کو صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ مذہب کا شخصی تصور تمام مذاہب کو یکساں قرار دینے کا اتنا غلط نظریہ پیدا کس طرح ہوا ۔ جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل مذہب کے بارے میں غلط طرز فکر کا نتیجہ ہے ۔ یہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page