Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنوں کی پیداوار ہے جو الہام کو نہیں مانتے اور مذہب کو صرف یہ حیثیت دیتے ہیں کہ وہ حقیقت کی تلاش میں انسانی کوششوں کا مظہر ہے۔ اگر آپ خدائی الہام کو مذہب کا ماخذ قرار دیں تو ظاہر ہے کہ حقیقت صرف وہ ہوگی جو الہام کے ذریعہ معلوم ہوئی ہو۔ اس کے باہر کسی مذہب ہی حقیقت کا وجود ممکن نہیں ہے۔ لیکن اگر مذہب صرف انسان کی تلاش و جستجو کا نام ہے تو ایسی صورت میں یقیناً اس کا کوئی متعین معیار نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت میں قدرتی طور پر ہر شخص کی رائے الگ الگ ہوگی۔ اس لئے ہر شخص کا مذہب بھی دوسرے سے مختلف ہونا چاہئے۔ وحدت ادیان کے نظریے کی اصل فلسفیانہ بنیاد یہی ہے۔ اس کے سوا جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ محض ضمنی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور دیگر مصالح کے تحت وقتی طور پر وجود میں آتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق مذہب ایک شخصی وجدان ہے۔ آدمی اپنی تپسیا اور اپنی ریاضتوں کے ذریعہ حقیقت عالم سے اپنا تعلق جوڑتا ہے اور اس کا ادراک حاصل کرتا ہے۔ اسی کا نام مذہب ہے۔ جی۔ آر۔ ایس۔ مڈ (Mead) لکھتے ہیں : ”سچائی کا آفتاب ایک ہے اور اس کی کرنیں تمام انسانوں کے دلوں اور دماغوں پر پڑتی ہیں۔ خدا کا اپنے بندوں کے ساتھ جو پدرانہ تعلق ہے اس کی بنا پر ہم کو اس کا یقین کرنا پڑے گا۔ G.R.S. Mead, Good Reading, p. 129 ہوور ڈڈی۔ ولیس لکھते ہیں : ”مذہب آخری حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے ایک عالمگیر، مختلف النوع اور کبھی نہ ختم ہونے والی جستجو ہے۔ اس جستجو میں کامیاب ہونے کے لئے اس ہمدردانہ آزادانہ رائے کی ضرورت ہے کہ بہت لوگ کوشش کرتے ہیں مگر چند لوگ پاتے ہیں ۔“ (حوالہ مذکور) ڈاکٹر را دھا کرشنن لکھتے ہیں : ”مذہب ایک واردات قلب ہے جس سے انسان کی کا یا پلٹ جاتی ہے۔ یہ خدا کے بارے میں کوئی علمی نظریہ نہیں بلکہ ایک روحانی شعور ہے۔ عقائد و اعمال، رسوم و عبادات، یہ سب چیزیں معرفت نفس اور عرفان الہی کے تابع ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی روح کو عالم ظاہر سے ہٹا کر باطن پر مرکوز کرتا ہے اور یکسوئی کے ساتھ سرگرم طلب ہوتا ہے تو اس پر یکا یک ایک انوکھی، پاک، حیرت انگیز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page