Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

واردات گزرتی ہے جو اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے اور اس کی ہستی پر چھاجاتی ہے، اس کی ہستی بن جاتی ہے۔ قومی تہذیب کا مسئلہ ، ب ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ حقیقت کا کوئی ایک تصور نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ہر آدمی جو کچھ کہہ دے اسی کو حقیقت ماننا پڑے گا۔ جس تصور کو جانچنے کے لئے کوئی متعین معیار نہ ہو بلکہ آدمی کا اپنا ذاتی وجدان ہی اس کا ماخذ ہو، ایسے تصور کے متعلق کسی شخص کو صحیح یا غلط کہنے کا کیا حق۔ جب ہر آدمی الگ الگ حقیقت کی دریافت کرتا ہے تو ہر شخص کے نزدیک حقیقت کا تصور بھی الگ الگ ہونا چاہئے۔ مہاتما گاندھی فرماتے ہیں: "یہ میرا تجربہ ہے کہ اپنے نقطہ نظر سے میں ہمیشہ حق پر ہوتا ہوں اور اپنے دیانت دار ناقد کے نقطہ نظر سے اکثر ناحق پر ۔ میں جانتا ہوں کہ ہم دونوں اپنے اپنے نقطہ نظر سے صحیح ہیں....... سات اندھے آدمی جنہوں نے ہاتھی کے متعلق سات مختلف بیانات دیئے تھے، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے نقطہ نظر سے صحیح تھا اور دوسرے کے نقطہ نظر سے غلط ....... میں اس تعدد صداقت (Manyness of reality) کے اصول کو بہت پسند کرتا ہوں یہی وہ اصول ہے جس نے مجھے سکھایا ہے کہ میں مسلمان، کو اس کے اپنے نظریے کے مطابق دیکھوں اور عیسائی کے بارے میں اس کے اپنے نظریے کے تحت فیصلہ کروں۔" My Religion, pp. 20-21 مذہب کے مندرجہ بالا تصور میں نہ صرف یہ کہ نبوت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ وہ "ختم نبوت" کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں کہ مذہب جب حقیقت کو دریافت کرنے کے لئے انسان کی جدوجہد ہے تو دوسری انسانی کوششوں کی طرح مذہب کو بھی، ہمیشہ ارتقاء پذیر ہونا چاہئے۔ اس تصور میں دور سابق کے کسی پیشوا کی دائمی رہنمائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مہاتما گاندھی مذہب میں رواداری (Tolerance) کی اہمیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: " اگر ہم پوری سچائی کو پالیں تو ہم محض متلاشی حق نہیں رہیں گے بلکہ خدا کے ساتھ ایک خدا کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ کیونکہ سچائی ہی خدا ہے۔ مگر صرف متلاشی ہونے کی صورت میں ہم اپنی تلاش جاری رکھیں گے اور اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ ہم ابھی ناقص ہیں۔ اور جبکہ ہم خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page