Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

ناقص ہوں، ایسی صورت میں ہم جس مذہب کو اختیار کئے ہوئے ہوں گے وہ بھی ناقص ہوگا۔ ہم نے ابھی مذہب کو اس کی مکمل صورت میں نہیں پایا ہوگا۔ جس طرح ہم نے ابھی خدا کو نہیں پایا ہوگا۔ اس طرح نامکمل ہونے کی وجہ سے ہمارا مذہب ہمیشہ ارتقاء کے عمل سے گزرتا رہے گا اور اس کی بار بار تعبیریں ہوں گی۔ صرف اسی طرح کے عمل ارتقاء کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ سچائی اور خدا کے بارے میں انسان ترقی کر سکے۔ اور اگر انسان کے بنائے ہوئے تمام عقیدے نا مکمل ہیں تو ایک دوسرے میں تقابل کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ تمام عقیدے سچائی کا انکشاف کرتے ہیں۔ مگر تمام کے تمام نامکمل ہیں اور سب میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ مشہور مغربی مورخ آرنلڈ ٹائن بی کا خیال ہے کہ ’’ انسانی تاریخ میں یہ تصور نسبتاً دیر میں آیا ہے کہ بعض مذاہب بہتر ہیں اور ان کو تمام بنی نوع انسان کے لئے ہونا چاہئے۔ یہ تصور ابتدائی سماج میں نہیں پایا جاتا۔۔۔۔ اعلیٰ روحانی نقطہ نظر کے مطابق اس طرح کے مذاہب یقیناً ناقص تھے۔ مگر وہ ایک منفی اہمیت ضرور رکھتے ہیں۔ وہ مختلف مذاہب کے درمیان ” جیو اور جینے دو “ کے ذہن کی پرورش کرتے ہیں۔ (Live and let live) وہ لکھتا ہے: ” یہ انسانی تاریخ کی ایک ستم ظریفی ہے کہ علمی روشنی جس نے مذہب میں ایک خدا اور انسانی اخوت کا تصور پیدا کیا اسی کے ساتھ وہ تعصب اور جبر بھی لایا ہے۔‘‘۔۔۔۔ جہاں کہیں اور جب کبھی اعلیٰ مذہب (Higher religion) کی تبلیغ کی گئی ہے، تعصب اور جبر کے ہیبت ناک واقعات ضرور وجود میں آئے ہیں ۔۔۔۔۔ رواداری (Toleration) کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب کے بارے میں یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ مشترک روحانی منزل کی تلاش ہیں۔ اگرچہ ان جستجوؤں میں بعض زیادہ ترقی یافتہ ہو سکتے ہیں یا دوسروں کے مقابلے میں ان کی تلاش زیادہ صحیح لائنوں پر ہو سکتی ہے۔ مگر ایک ”صحیح “ مذہب کا کسی ” مذہب “ پر جبر کرنا، بذات خود ایک اصطلاحی تضاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ صحیح مذہب جب ظلم و جبر کرنے لگتا ہے تو وہ خود اپنے کو غلط پوزیشن میں ڈال دیتا ہے اور اپنے دعوے کی خود ہی تردید کر دیتا ہے۔‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page