Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

کلچر کا تاریخی تصور مذہب کے متعلق جب یہ تصور ہو تو مذہب کی بنیاد پر جتنے افعال پیدا ہوتے ہیں وہ بھی ظاہر ہے کہ اسی رنگ میں دیکھے جائیں گے۔ اس تصور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تہذیب کو کوئی حقیقی چیز نہ سمجھا جائے ۔ بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار قرار دیا جائے۔ ڈاکٹر رادھا کرشن اپنی کتاب "مذہب اور سماج" کے آخر میں لکھتے ہیں : " تہذیب کوئی جامد یا خارج سے عائد کردہ چیز نہیں ہوتی ۔ وہ عوام کا خواب ہے، وہ انسانی زندگی کی ایک تخیلاتی تعبیر ہے، وہ اسرار حیات کا ایک شعور ہے۔" Religion and Society, p.244 اس تصور کے مطابق تہذیب اور کلچر کو کسی دائمی معیار پر جانچنے یا ان کا پابند بنائے رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مصلحین کو یہ بالکل ایک مناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں مختلف تہذیبوں کو ختم کرکے ایک قومی تہذیب کو رائج کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جس تہذیب کی بنیاد محض شخصی تجربوں پر ہو اس میں انفرادیت پر اس قدر زور دینا بے معنی ہے۔ اس تصور کے مطابق "مشترک تعلیمی نظام" تمام فرقوں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ "غیر حقیقی اختلافات" کو ختم کرکے " حقیقی یگانگت " پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک ہندوستانی عالم سیاسیات اڈی اسرواتھم (Eddy Asirvatham) لکھتے ہیں : ".... قومی تعلیم، اگر اس کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ یکساں اخلاقی معیار، صحیح اور غلط کا یکساں تصور، بیشتر معاملات میں تصورات کی یگانگت اور مختلف افراد کے درمیان سماجی اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت کو بخوبی پورا کر سکتی ہے۔ ہندوستانی قومیت کو اگر ایک مضبوط پودے کی شکل میں ترقی دینا ہے تو تصورات اور معیار کی یکسانی پر زور دینا ضروری ہے۔ ہندوستان میں ہندو اور مسلم کلچر نے اس حد تک ایک دوسرے پر اثر ڈالا ہے کہ آج کا ہندوستانی اور پاکستانی اسلام، عرب یا دوسرے قریبی مسلم ملکوں کا اسلام نہیں ہے۔ اس لئے ہمارے درمیان جو تہذیبی اختلافات ہیں ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا نہیں چاہئے۔ اور اگر دو بڑے گروہوں ( ہندو اور مسلم) کے درمیان ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page