Urdu book · مضامین اسلام

کیا تمام مذاہب ایک ہیں

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

تہذیب جس سے اس کو سابقہ پڑا۔ آگے چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں : " فکری امتزاج کے لئے زیادہ شعوری کوشش فیضی اور ابو الفضل اور ان کے بعد شاہ جہاں کے دور حکومت میں دارا شکوہ کے ہاتھوں ہوئی ۔ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ ہندو فلسفہ ٴحیات کی طاقت اور اس کا استحکام آریائی اور غیر آریائی نقطہ ہائے نظر کے مکمل امتزاج و تحلیل کا نتیجہ ہے۔ انسانی ذکاوت کا یہ اعلیٰ ترین فعل ہے کہ سیاہ فام اور غالباً قدیم قبائلی دیوتا کرشن کو سفید فام دیوتا ردر یا شیو کا ہم پایہ بنا کر ہندو دیوتاؤں کے زمرے میں شامل کر لیا گیا۔ وہ بے پناہ تخیل جس نے اس امتزاج کو ترقی دی اس نے امتزاج و تحلیل کو اس حد تک مکمل کر دیا کہ آج دراوڑ، آریائی اور ان دوسرے سلسلوں میں باہم تفریق و امتیاز تقریباً ناممکن ہے جو مل جل کر ہندو نقطہ نظر کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی بدقسمتی تھی کہ ہندو اور مسلم نقطہ ہائے نظر کے درمیان فکری امتزاج کی ایسی ہی کوششیں تشنہٴ تکمیل رہیں۔" مذہب کے اس تصور سے یہ بات باآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ بہت سے لوگ وحدت ادیان کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں یا کس بنا پر مشترکہ تہذیب پیدا کرنے کی کوشش کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ مگر اسلام کے نزدیک چوں کہ مذہب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے۔ اس لئے وحدت ادیان یا وحدت تہذیب کا نظریہ بھی اس کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے مذہب کسی شخص کی قلبی واردات کا نام نہیں ہے اور نہ وہ حقیقت کی تلاش کے سلسلے میں انسانی کوششوں کا مظہر ہے بلکہ وہ منزل من اللہ دین کا نظریہ رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک مذہب مکمل طور پر خدا کا حکم ہے جو خود خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اس حد تک تمام صحیح مذاہب ایک ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تاریخی اعتبار سے وہ تمام مذاہب یکساں حیثیت رکھتے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ مگر اب سے چودہ سو برس پہلے خدا کا آخری رسول آیا۔ اس نے ایک کامل شریعت پیش کی اور اس نے اعلان کیا کہ پچھلی تمام شریعتیں اللہ تعالیٰ نے منسوخ قرار دے دی ہیں اور آئندہ قیامت تک کے لئے صرف اسی کی لائی ہوئی شریعت انسان کے لئے صحیح لائحہ عمل ہوگی۔ اس طرح اب جو صورت حال ہے وہ یہ کہ زمین کے اوپر خدا کا صحیح اور مستند دین ہونے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page