Urdu book · مضامین اسلام

مذہب : ایک مطالعہ

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جو انسان کی صورت میں پیدا کیا گیا ، نہ کہ ایسا انسان جو خدا کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ اس طرح کے ذہن جب بعد کو سائنسی تربیت حاصل کرتے ہیں ، تو یہ الٹا اور محدود تشبیہی نظریہ تدریج سائنس کے عقلی اور استقرائی نقطہ نظر کے زیادہ سے زیادہ غیر مطابق نظر آنے لگتا ہے۔ آخر کار جب دونوں میں ہم آہنگی کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو خدا کا تصور مکمل طور پر ترک کر دیا جاتا ہے۔ اس وہم کے ٹوٹنے کے بعد جو نفسیات بنتی ہے وہ دوبارہ کسی نئے تصور کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی اصل تعلیم وہی تھی جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ دونوں ایک ہی توحید لے کر آئے۔ مگر حضرت مسیح کے بعد ان کے پیروؤں نے آپ کی تعلیم کو بگاڑ دیا۔ انھوں نے توحید کے تصور کو بالکل مسخ کر دیا۔ حضرت مسیح کو ایک طرف انھوں نے خدائی کا درجہ دیا ، دوسری طرف کفارہ کے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کے لیے ان کو سولی پر چڑھا دیا۔ اس طرح خدا کا تصور عام انسان کی نظر میں مضحکہ خیز ہو کر رہ گیا۔ خدا کا ئنات میں انتہائی عظیم دکھائی دیتا ہے، مگر اہل مذاہب کی اپنی تعبیر میں وہ بالکل چھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک سائنس داں جو کائنات کی وسعتوں کا مطالعہ کرتا ہے ، اس کے لیے خدا کا یہ تصغیری تصور بالکل ناقابل فہم ہے۔ چنانچہ اس قسم کے لوگ ابتداً خاندانی حالات کے زیر اثر خدا کو مانتے ہیں۔ مگر جب تعلیم کے ذریعہ ان کا ذہن وسیع ہوتا ہے تو وہ خدا کا انکار کر دیتے ہیں۔ ۲۔ ٹائمز آف انڈیا ہندوستان کا قدیم ترین انگریزی اخبار ہے۔ وہ ۳۸ ۱۸ میں جاری ہوا تھا۔ یہ اخبار ہر اتوار کو اپنا ایک ہفتہ وار ایڈیشن نکالتا ہے جس کا نام سنڈے ریویو (Sunday Review) ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۴۲ جولائی ۱۹۸۸ میں صفحہ اول پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کے لکھنے والے مسٹر آرپی شرما ہیں۔ اس مضمون کا عنوان ہے ۔ مرد آقا تھے : Men were masters اس مضمون میں ہندوازم کا فکری اور تاریخی جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس کے کچھ حصہ کا ترجمہ ہم کسی اضافہ یا تشریح کے بغیر یہاں نقل کرتے ہیں : ہندوازم بنیادی طور پر ویدازم کے ہم معنی ہے۔ قدیم آریائی دور میں ویدوں کی بنیاد پر ایک ایسا سماجی نظام بنا جس میں عورت کے بجائے مرد کو تمام خاندانی اور سماجی برتری حاصل تھی۔ وید لرک کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page