مذہب : ایک مطالعہ
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
کی پیدائش کی دعاؤں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ وید کی مناجاتوں میں اکثر تکرار کہا جاتا ہے کہ " ہمیں مردوں والا پر لوار دے ۔ کسی بھی وید میں کوئی ایسی مناجات نہیں جس میں لڑکی کی پیدائش کی درخواست کی گئی ہو۔ اس کے برعکس اس میں ایسی دعائیں اور رسمیں ہیں جو لڑکی کی پیدائش کو روکنے کے لیے بتائی گئی ہیں۔ رگ وید میں ، جو کہ ویدوں میں سب سے قدیم ہے ، خاندان کا بزرگ شادی کے موقع پر دلہن کو آشیرواد دیتے ہوئے جو کچھ کہتا ہے ، اس میں سے ایک یہ ہے کہ : تو مردوں کی ماں بنے ۔ اتھروید کی ایک مناجات کہتی ہے کہ اسے پر جاپتی ، لڑکیاں کسی اور کو دے ، ہم کو صرف لڑکا دے ۔ بریہادر انیاک اپنشید کا پورا چھٹا باب صرف ان رسموں کے تذکرے پر مشتمل ہے جو لڑکا پیدا ہونے کی صورت میں انجام دی جاتی ہیں ۔ منو سمرتی کہتی ہے کہ " عورت بچپن میں اپنے باپ کے تابع رہے ، جوانی میں وہ اپنے شوہر کے تابع رہے ، اور بڑھاپے میں وہ اپنے لڑکوں کے تابع رہے ، کیوں کہ وہ پیدائشی طور پر ناقص اور کم سمجھ ہے ۔ " عورت کے بارے میں ہندو ازم کی ان تعلیمات کے بعد ہندو سماج میں عورت کا کیا انجام ہوا ہے ، اس کے لیے صرف یہ حوالہ دینا کافی ہوگا کہ خود سرکاری رپورٹ کے مطابق ، صرف ۱۹۸۵ء میں شوہروں کی طرف سے بیویوں کو جلانے کے ۷۳۸ واقعات ہوئے ۔ دوسری بد سلوکیاں اس کے علاوہ ہیں ۔ مزید یہ کہ ہندو انم سماج کی تشکیل نسل کی اصطلاحوں میں کرتا ہے جس میں ذمہ داریاں پیدائش کی بنیاد پر مقرر ہوتی ہیں ۔ جس طرح عورت اور مرد کے فرق میں صرف جنس کو ساری اہمیت دی گئی تھی ، اسی طرح کسی انسان کے درجہ کے تعین میں اس کی کھال کے رنگ کو ساری اہمیت حاصل ہے جو چار درجات پر تقسیم ہے ۔ اس چار درجات کی تقسیم کو چیتر ورن کہا جاتا ہے ۔ جس کا لفظی مطلب چار رنگ ہے ۔ یہ درجات پیدائش سے مقرر کیے گئے ہیں : برہمن ، کھشتری ، ویشیہ ، شد ر ۔ رگ وید کی پرشش سجمن (۱۰: ۹۰) کے مطابق ، برہمن پروٹ کے منھ سے نکلا ہے ، کھشتری اس کے بازوؤں سے ، ویشیہ اس کی ران سے ، اور شد ر اس کے پاؤں سے ۔ اس سے سماج میں ہر ایک کے درجہ کا اندازہ ہوتا ہے ۔ شد ر کو ان بہت سی چیزوں کی اجازت نہیں جس کی اجازت بقیہ تینوں کو حاصل ہے ۔ منو سمرتی کے مطابق ، شدر کی واحد ذمہ داری یہ ہے کہ وہ چپ چاپ دوسرے طبقے کے لوگوں کی خدمت کرتا رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader