مذہب : ایک مطالعہ
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
آر پی شرما نے اس قسم کی بہت سی تفصیلات بیان کی ہیں جو اخبار کے صفحہ ا ، اور صفحہ ۵ پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس سلسلہ میں وہ مزید لکھتے ہیں : پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے ، آج کا ہندو حیرت میں پڑ جاتا ہے اور دکھ محسوس کرتا ہے ، حتیٰ کہ وہ چکرا جاتا ہے اور اس کو سخت جھٹکا لگتا ہے جب وہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے عظیم پرکھوں نے کیوں اس کا فیصلہ کیا کہ سماجی نظام میں ایک شخص کے درجہ اور اس کے عمل کو متعین کرنے کے لیے وہ جنس اور پیدائش کے اتفاق کو واحد فیصلہ کن چیز قرار دیں ۔ اس کو برہنہ طور پر بیان کرنے کے لیے ایک شخص بجا طور پر کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے آریائی نظام کو قائم کیا اور چلایا وہ جنس پرستی اور نسل پرستی کے قصور وار تھے ۔ ساری دنیا میں اب صرف ہندوستان ہی ایک ایسا قابلِ ذکر ملک ہے جہاں قدیم مشترک اب بھی زندہ حالت میں موجود ہے ۔ تاہم ہندو قوم کا جدید تعلیم کے میدان میں داخل ہونا اب اس کو اپنے قدیم مذہب سے دور کرتا جا رہا ہے ۔ ایک طرف ان کا وہ طبقہ ہے جو قدیم روایات اور قومی تقلید کے زیر اثر ابھی تک مشترکانہ رسوم ورواج کی ادائیگی میں مشغول ہے ۔ دوسری طرف ان کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے جو اس کو غیر فطری اور غیر علمی پا کر اس سے متوحش ہوتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ کی مختلف مثالیں کثرت سے سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان میں سے چند بطور نمونہ یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا میں ایک کالم رائے (Opinion) کا ہوتا ہے ۔ اخبار مذکور کے شمارہ ۲ اگست ۱۹۸۸ میں دہلی کی ایک ہندو خاتون جے شری ارونا چلم کا ایک تاثر شائع ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے : Godliness that shatters peace اس عنوان کے تحت انھوں نے لکھا ہے کہ کیا کوئی شخص مجھے جاگرن منعقد کرنے کا مقصد بتا سکتا ہے۔ امتحان قریب ہونے کی وجہ سے طلبہ رات کو دیر تک پڑھتے ہیں۔ ان سے کیوں کر یہ امید کی جاتی ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader