Urdu book · مضامین اسلام

عقلی استدلال

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا جواب بظاہر نہایت مختصر تھا۔ مگر اس کو سنتے ہی وہ صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی کی وجہ وہ انقلاب تھا جو سائنسی طریقِ استدلال کے اندر موجودہ زمانہ میں پیش آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ صاحب نے اپنا سوال ماضی کے پس منظر میں کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ حقیقت کو مشاہداتی معیار پر ثابت کیا جا سکتا ہے، اور چونکہ خدا کو مشاہداتی معیار پر ثابت کرنا ممکن نہیں، اس لیے خدا ایک غیر حقیقی مفروضہ ہے، علمی اعتبار سے اس کا کوئی وجود نہیں۔ مگر میرے جواب نے انہیں یاد دلایا کہ وہ بیسویں صدی کے نصف ثانی میں ہیں۔ اور اب بیسویں صدی کے نصف ثانی میں تمام حقیقتیں، حتیٰ کہ خود سائنسی حقیقتیں بھی، غیبی حقیقتیں بن چکی ہیں۔ اب وہی بالواسطہ یا استنباطی استدلال خود سائنس کی دنیا میں استعمال ہو رہا ہے جو پہلے مذہب میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اب وہ دور آگیا ہے کہ کسی بھی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے غیر مشاہداتی معیار ہی واحد قابل عمل معیار ہے، خواہ وہ حقیقت مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ حقیقت یہ ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہر منکر دوبارہ خدا کا اقرار کرے۔ جدید حقائق کے ظہور کے بعد انکار کے رویہ پر قائم رہنے کی کوئی علمی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ مطبوعہ : اسلام اور عصرِ جدید ، دہلی، جنوری ۱۹۹۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page