Urdu book · مضامین اسلام

دین خداوندی کی تصدیق

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

۵۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ کی آیات (نشانیاں) ہیں، ان پر غور کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ کائنات کو اس انداز پر بنایا ہے کہ یہاں ہر چیز میں بے شمار ایسے پہلو چھپے ہوئے ہیں جو توحید اور حقائق الہی کی طرف اشارہ کرنے والے ہیں۔ جو دین خداوندی کے حق میں برہان ہیں اور اسی کے ساتھ ان میں مومن بندوں کے لیے ازدیاد ایمان کا سامان چھپا ہوا ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں کائنات کے یہ ربانی اسرار چھپے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ اسرار اس وقت کھلتے ہیں جب کہ ان پر آزادانہ غور کیا جائے۔ جب گہرائی کے ساتھ ان کی تحقیق کی جائے۔ مگر شرک اس قسم کی تحقیق و جستجو میں مانع تھا۔ شرک در اصل نام ہے مظاہر فطرت کی پرستش کا۔ مشرکانہ توہمات کے تحت انسان فطرت کے ان مظاہر کو پرستش کا موضوع بنائے ہوئے تھا۔ اور جس چیز کو انسان پرستش کا موضوع بنالے وہ اس کی نظر میں مقدس بن جاتی ہے۔ اس کے لیے صرف عقیدت مندانہ طور پر جھکنے کا مزاج بنتا ہے نہ کہ علمی انداز میں ان کی تحقیق و تفحص کا مزاج۔ یہ مشرکانہ ذہن اور یہ توہماتی مزاج اسرار فطرت کو کھولنے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اور اسرار فطرت کے نہ کھلنے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہورہا تھا کہ خدا کے دین کے حق میں کائنات کی علمی تصدیقات مہرہن ہو کر لوگوں کے سامنے آئیں۔ اسلام کے دور اول میں جو وسیع انقلاب لایا گیا، اس نے مذکورہ مشرکانہ ذہن کے غلبہ کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ کائنات کی چیزوں کا تقدس ذہنوں سے نکل گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جن مظاہر فطرت کو لوگ صرف تقدس اور پرستش کی نظر سے دیکھتے تھے، اب وہ ان کو تجسس اور تحقیق کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس طرح تاریخ انسانی میں ایک نیا علمی دور شروع ہوا۔ ابتداً اس فکر کا مرکز مکہ تھا۔ پھر وہ مدینہ پہنچا۔ اس کے بعد وہ دمشق ہوتا ہوا بغداد پہنچا۔ اس کے بعد مزید آگے بڑھ کر وہ اسپین اور سلی میں داخل ہوا۔ اس کے بعد اٹلی اور فرانس پہنچ کر وہ مغربی یورپ میں پھیل گیا۔ اس طرح یہ انقلابی فکر مسلسل سفر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس مرحلہ کو پہنچ گیا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ اللہ کی جو نشانیاں فطرت کے اندر چھپی ہوئی تھیں وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page