دین خداوندی کی تصدیق
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
مسیحیت اپنے موجودہ عقائد کے اعتبار سے انسان کی عقل اور اس کی فطرت کو اپیل نہیں کرتی۔ جب کہ اسلام کی تعلیمات انسانی فطرت اور انسانی عقل کے عین مطابق ہیں۔ یہودیت کی کتاب پرانا عہد نامہ ہے ۔ مگر پرانا عہد نامہ ایسی باتوں سے بھرا ہوا ہے جو اس کو کتاب مقدس سمجھنے میں شدید طور پر مانع ہیں۔ مثال کے طور پر پیغمبر وہ مقدس لوگ ہیں جو خدا کی طرف سے انسانی کو سچائی کا پیغام دیتے ہیں۔ مگر پرانا عہد نامہ ( بابل) میں پیغمبروں کی طرف نہایت لغو باتیں منسوب کردی گئی ہیں۔ مثلاً پیغمبر کا شراب پینا ، پیغمبر کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ناجائز فعل کرنا، پیغمبر کا جھوٹ بولنا ، وغیرہ ۔ بائبل اپنی موجودہ صورت میں انسان کو مقدس کتاب نظر نہیں آتی اور نہ پیغمبر وہ افراد نظر آتے ہیں جنھیں خدا نے اپنی نمائندگی کے لیے چنا ہو۔ اس کے برعکس قرآن میں پیغمبروں کو نہایت پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان کی حیثیت سے دکھایا گیا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق پیغمبر واقعی اس قابل نظر آتے ہیں کہ خدا انھیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے چنے۔ اب ہند وازم کو لیجئے ۔ ہند وازم میں انسان کو چار ذاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ چاروں الگ الگ پیدا کیے گئے ۔ ان میں کوئی اونچی ذات ہے اور کوئی نیچی ذات ۔ قدیم تو ہماتی دور میں انسان اس قسم کے عقیدہ کو مان سکتا تھا مگر جدید انسان کے لیے اس قسم کے عقیدہ کو ماننا بالکل ناممکن ہے ۔ اولاً ، یہ عقیدہ مساوات انسانی کے تصور کے خلاف ہے ۔ اولاً انسانی فطرت کہتی ہے کہ سب انسانوں کو برابر کا درجہ ملنا چاہیے۔ رنگ و نسل کی بنا پر ان میں تفریق کرنا انسانی تقاضے کے مطابق نہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ نظریہ سائنس کی تحقیقات سے بھی ٹکرا گیا ہے۔ کیوں کہ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ تمام انسان ایک ہی فرد کی نسل سے ہیں اور سب کے سب حیاتیاتی بھائی (biological brothers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے بارہ میں چار الگ الگ پیدائش کا نظریہ موجودہ زمانہ میں غیر معتبر نظریہ بن کر رہ گیا ہے۔ مگر اسلام میں اس قسم کا کوئی تضاد نہیں۔ اسلام میں واضح طور پر تمام انسانوں کو یکساں درجہ دیا گیا ہے۔ تقویٰ کے سوا کسی اور بنیاد پر ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کرنا جائز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader