اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام عصر حاضر میں ٹائم میگزین نے اپنے شمارہ ۱۵ جون ۱۹۹۲ میں اسلام کو اپنی کور اسٹوری بنایا ہے۔ اس کے صفحہ اول کی سرخی یہ ہے۔ اسلام، کیا دنیا کو اس سے ڈرنا چاہئے ؟ Islam: should the world be afraid? میگزین کے اندر صفحہ ۲۰ پر اس کی دوسری سرخی کے الفاظ یہ ہیں۔ اسلام کی تلوار (The sword of Islam) ٹائم کے ان مضامین میں اسلام کی جنگ جو یا نہ تصویر کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارہ میں عام طور پر اسی قسم کی باتیں کہی جارہی ہیں۔ یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ اس نے اپنا قصہ بتایا۔ اس کو ایک جاب کے لئے انٹرویو دینا تھا۔ جو پروفیسر اس کا انٹرویو لے رہا تھا ، نوجوان کے بیان کے مطابق ، اس کے اور نوجوان کے درمیان گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا کیا تم مسلمان ہو ۔ ہاں ۔ پھر تو تم دہشت گرد ہو : Are you a Muslim? Yes. Then you are a terrorist. یہ چند واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی تصویر کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی تصویر ایک تشدد پسند مذہب کی تصویر بن گئی ہے۔ اس بنا پر کچھ لوگ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اسلام عالمی امن ، ہم وجودیت (co-existence) اور باہمی اتحاد (solidarity) کے لئے مستقل خطرہ ہے۔ مگر یہ سراسر غلط نہی ہے۔ اس کا اصل صورت حال سے کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملہ میں اسلام کی حیثیت متعین کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام کا مقصد کیا ہے۔ وہ کون سا نشانہ ہے جس کو اسلام حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ نشانہ نہایت واضح طور پر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسے ایمان لانے والو تم لوگ ربانی بن جاؤ (۳ : ۷۹) قرآن میں یہاں ربانی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی کسی اور والے انسان نہ بن کر رب والے انسان بن جاؤ ، تمہاری عبادت ، تمہارا ڈیووشن ، تمہاری محبت اور خوف سب ایک اللہ کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader